لاہور چار بچوں کے اغواء کا مقدمہ باپ قاتل نکلا

اغواء کا مقدمہ

نیوز ٹوڈے: لاہور کے نواحی علاقہ کاہنہ میں گاؤں پنجو کے رہائشی عظیم نے ایک روز قبل لاہور تھانہ میں اپنے بچوں کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا عظیم نے پولیس کو بتایا کہ اس کی تین بیٹیاں سمیعہ، نبیہہ اور عائشہ جن کی عمریں 9 ، 5 اور 2 سال ہیں اور ایک بیٹا جس کی عمر 12 سال ہے اتوار کے روز سے لاپتہ ہیں عظیم نامی شخص نے پولیس کومزید بتایا کہ اتوار کے روز اس کے چاروں بچے دکان پر سامان لینے گۓ تھے اور لوٹ کر نہیں آۓ پولیس کو مقدمہ درج کرواتے وقت عظیم کے بیانات اور گھبراہٹ کی وجہ سے پولیس کو اس پر شبہ ہوا-

تو پولیس نے اس سے پوچھ گچھ کی جس پر ملزم نے اعتراف جرم کر لیا کہ وہ اپنے بچوں کو تصویریں بنانے کے بہانے للیانی نہر کے کنارے لے گیا اور چاروں بچوں کو نہر میں پھینک دیا ملزم نے بچوں کو قتل کرنے کی وجہ نہیں بتائی البتہ محلے داروں کا کہنا ہے کہ ملزم نے چھ ماہ پہلے یہ مکان کراۓ پر لیا تھا وہ اپنے بچوں سے بہت پیار کرتا تھا لیکن بیوی کا بیان اس کے برعکس ہے بیوی کا کہنا ہے کہ ملزم کی غلط حرکتوں کا اسے پتا تھا وہ ظاہر میں کچھ دکھائی دیتا تھا لیکن اس کی اصلیت کچھ اور تھی اس واقعہ پر وزیر اعلٰی پنجاب نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا حکم بھی دیا ہے-

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+