پنجاب یونیورسٹی میں نامعلوم افراد کی مبینہ فائرنگ کے بعد لاہور میں طلباء کا احتجاج

احتجاج

نیوز ٹوڈے:    لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں نامعلوم افراد کی مبینہ فائرنگ کے بعد طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے انڈر پاس کیمپس اور کینال روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ صوبائی دارالحکومت کی پنجاب یونیورسٹی میں مبینہ طور پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے بعد طلبہ کیمپس کے پل پر جمع ہو کر احتجاج کیا۔ احتجاج کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا اور ٹریفک وارڈنز بھی ٹریفک کی روانی بحال کرنے میں ناکام نظر آئے۔

واضح رہے کہ لاہور میں ملک کی سب سے بڑی سرکاری یونیورسٹی 'پنجاب یونیورسٹی' میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں جہاں طلبہ تنظیموں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں اور طلبہ مختلف مواقع پر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج یا مظاہرے بھی کرتے ہیں۔ جمعرات کو پنجاب یونیورسٹی میں نامعلوم افراد کی مبینہ فائرنگ کے بعد طلبہ کے احتجاج کے باعث کینال روڈ مکمل طور پر جام ہوگئی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ برکت مارکیٹ، فیروز پور روڈ، وحدت روڈ، بھکے والا موڑ پر بھی ٹریفک جام رہی۔

ٹریفک وارڈنز کی ناقص حکمت عملی کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار نظر آئے۔ وارڈنز ٹریفک کو رواں دواں رکھنے اور شہریوں کو متبادل راستے فراہم کرنے میں ناکام نظر آئے۔

خیال رہے کہ اکتوبر میں لاہور کے ایک نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی خبریں پھیلنے کے بعد صوبہ پنجاب میں طلبہ نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔ اس دوران حکومت نے نجی کالج کی رجسٹریشن بھی معطل کر دی۔ تاہم بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو واقعے کی تحقیقات کے دوران ایسے کسی واقعے کے شواہد نہیں ملے اور نہ ہی کسی طالب علم یا اس کے اہل خانہ نے اس حوالے سے پولیس سے رابطہ کیا۔

user

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+