پی ٹی آئی رہنما بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے رویے اور مداخلت پر پریشان
- 06, دسمبر , 2024

نیوز ٹوڈے : پی ٹی آئی کے کئی رہنما بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے مبینہ سخت رویے اور پارٹی معاملات میں بڑھتی ہوئی مداخلت سے پریشان ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پارٹی کے کچھ سینئر رہنماؤں نے بتایا کہ عمران خان کی اہلیہ اور بہن کی پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بدتمیزی بڑھ رہی ہے۔جمعرات کو اڈیالہ جیل کے عدالتی احاطے میں علیمہ خان کی بیرسٹر گوہر علی خان اور سلمان اکرم راجہ کے ساتھ تلخی اسی صورت حال کی عکاس ہے جس کا پارٹی رہنماؤں کو سامنا ہے۔
پارٹی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بیشتر رہنماؤں نے غیر معمولی قربانیاں دی ہیں، درجنوں ایف آئی آرز میں نام ہیں، جیلوں کا سامنا ہے، ان کے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی ہماری توہین کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب سلمان اکرم راجہ اور صاحبزادہ رضا کے استعفوں کی وجوہات میڈیا میں سامنے آئی ہیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مسائل ہیں جن کا پارٹی رہنماؤں کو سامنا ہے لیکن عوام ان سے لاعلم ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور بھی مشکل میں ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ایک دن پنجاب سے پارٹی کا ایک سینیٹر بتائے گا کہ دوسرے رہنماؤں کے سامنے ان کی تضحیک کی گئی۔
حال ہی میں لیک ہونے والی ایک آڈیو میں علی محمد خان کو پارٹی کی سیاسی کمیٹی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کی ہدایات کو نظر انداز کیا اور احتجاجی مارچ کو ریڈ زون میں لے جانے پر اصرار کیا۔
انہوں نے 24 نومبر کے احتجاج کا اعلان پارٹی عہدیداروں جیسے چیئرمین یا سیکرٹری جنرل کے ذریعے کرنے کی بجائے عمران خان کی بہن علیمہ خان کی طرف سے کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔
پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما شوکت یوسفزئی نے بھی کھل کر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ سنگجانی میں احتجاجی مارچ کیوں نہیں روکا گیا۔ انہوں نے غیر سیاسی افراد کو سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی اجازت دینے پر پارٹی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی ایک غیر سیاسی شخصیت ہیں، اگر وہ اصرار بھی کرتیں تو کیا پارٹی قیادت اتنی کمزور تھی کہ اجازت دے دے؟ بشریٰ بی بی کی بہن اور ان کے ترجمان نے میڈیا کو جو کچھ بتایا اس پر کئی پارٹی رہنما بھی ناراض ہیں۔
دی گارڈین کو دیے گئے ایک حالیہ خصوصی انٹرویو میں بشریٰ بی بی کے ترجمان مشال یوسفزئی نے کہا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اپنی اہلیہ پر مکمل اعتماد کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پارٹی قیادت قابل اعتماد نہیں اور ان کے خلاف کام کر رہی ہے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک طرف علیمہ خان پارٹی رہنماؤں سے 24 نومبر کے احتجاجی مارچ میں ہونے والے جانی نقصان کے حوالے سے مبالغہ آمیز اعدادوشمار دینے کا کہہ رہی ہیں تو دوسری جانب بشریٰ بی بی پارٹی کے منتخب اراکین اسمبلی سے براہ راست رابطہ کر رہی ہیں۔ خیبر پختونخواہ۔
رابطہ کرنے پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص نے کہا کہ پارٹی رہنما دونوں خواتین کا احترام کرتے ہیں، انہوں نے اصرار کیا کہ ان دونوں میں سے کسی کا بھی پی ٹی آئی کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
شیخ وقاص کرم نے اس بات کی تردید کی کہ دونوں خواتین کا پارٹی کے معاملات میں کوئی اثر و رسوخ ہے اور کہا کہ چونکہ دونوں خواتین کے عمران خان سے قریبی تعلقات ہیں اور جیل میں ان تک رسائی ہے، اس لیے وہ بانی چیئرمین کے پیغامات پارٹی تک پہنچاتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات نے اس بات کی بھی تردید کی کہ پارٹی رہنماؤں کے ساتھ خواتین کا رویہ سخت یا تضحیک آمیز تھا۔

تبصرے