عمران خان نے رہائی کی پیشکش کی؟ شیر افضل مروت کا بڑا دعویٰ

شیر افضل مروت

نیوز ٹوڈے :   پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ 24 نومبر کے احتجاج کے دوران عمران خان کو رہا کرنے کی پیشکش ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم 25 نومبر کو جیل سے ویڈیو پیغام دینے کو تیار ہیں، قیادت فیصلہ کرتی تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ یہ سچ ہے کہ ایک موقع تھا۔ 26 نومبر کو جب بیرسٹر گوہر جیل میں بیان ریکارڈ کرانے گئے تو انہیں بتایا گیا کہ وہ مزید آواز نہیں اٹھا سکتے۔

مذاکرات کے لیے عمران خان کے پیغامات حوصلہ افزا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سمجھنا چاہیے کہ ملکی مسائل کا حل مذاکرات میں مضمر ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ مذاکرات ایک دو دن میں مکمل ہوں گے۔ 22 سے 25 نومبر تک ہونے والے مذاکرات رانا ثناء اللہ اور سپیکر کے ساتھ تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے 9 ماہ میں تحریک انصاف کا اعتماد حاصل کر لیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے مذاکرات کریں گے تو وہ مثبت ماحول میں ہوں گے۔ اسٹیبلشمنٹ کو مذاکرات سے کوئی مسئلہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے پی ٹی آئی کا امیج خراب کیا ہے، سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں سے پارٹی کو شدید نقصان پہنچا ہے، جب میں نے پارلیمنٹ میں مذاکرات کی بات کی تو ان کی ڈور کھینچی گئی، ہمارے اندر سے کچھ لوگ بھی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کا ساتھ دینے سے ہمیں خود کو ان لوگوں سے الگ کرنا ہو گا جو سوشل میڈیا پر پارٹی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو سوشل میڈیا کی وجہ سے مقبولیت نہیں ملی، ہمیں اپنی سوشل میڈیا پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے، اگر سوشل میڈیا کے حوالے سے دو قدم پیچھے ہٹنا ہے تو ایک قدم پیچھے ہٹنا چاہیے، کچھ لوگ نام پر چندہ اکٹھا کر رہے ہیں۔ اگر سول نافرمانی کی کال دی گئی تو نقصان خواجہ آصف کا نہیں پاکستان کا ہوگا۔

user

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+