ضلع کرم کو آفت زدہ قرار دے دیا، خیبر پختونخوا حکومت نے بھی ریلیف ایمرجنسی کی منظوری دے دی
- 24, دسمبر , 2024
.webp)
نیوز ٹوڈے : پاکستان کرم ضلع کو آفت زدہ قرار دے دیا، خیبرپختونخوا حکومت نے بھی ریلیف ایمرجنسی کی منظوری دے دی۔خیبرپختونخوا حکومت نے ضلع کرم کو آفت زدہ قرار دے دیا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کرم کی صورتحال اور صوبائی حکومت کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کرم مسئلہ کے پائیدار حل کے لیے کئی جرگے ہوئے، ادویات کی قلت پر قابو پانے کے لیے 10 ٹن ادویات ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرم پہنچائی گئیں، خوراک کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے گندم رعایتی نرخوں پر فراہم کی جارہی ہے۔ کرم میں جان و مال کے نقصان کے ازالے کے لیے اناج، اور ادائیگیاں کی گئی ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاراچنار روڈ کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی پولیس فورس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 399 اہلکار بھرتی کیے جائیں گے جب کہ سڑک کو محفوظ بنانے کے لیے پوسٹیں لگانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ ہونے کے بعد سڑک کو کھول دیا جائے گا۔ بریفنگ کے مطابق فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بند کرنے کے لیے ایف آئی اے سیل قائم کیا جائے گا۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں یکم فروری تک غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے کا فیصلہ کیا گیا، قانونی اسلحہ کے لائسنس کے اجراء کے لیے محکمہ داخلہ میں ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ کرم کے علاقے میں قائم مورچے بھی یکم فروری سے مسمار کیے جائیں گے۔
کابینہ نے کرم کو آفت زدہ علاقہ قرار دیتے ہوئے ریلیف ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ علاقے میں غیر قانونی بھاری ہتھیاروں کی بھرمار ہے، اتنے بھاری ہتھیار رکھنے اور مورچے بنانے کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس مسلح گروہوں کو غیر قانونی بھاری ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ضلع کرم میں پشاور پاراچنار مرکزی شاہراہ سمیت آمدورفت کے راستے 76 روز سے بند ہیں۔ شہر میں اشیائے خوردونوش، ادویات، تیل، لکڑی اور ایل پی جی کی شدید قلت ہے۔
ٹرانسپورٹ روٹس کی بندش کے خلاف شہریوں نے شدید سردی میں پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔

تبصرے