بانی پی ٹی آئی کو این آر او ملتا نظر نہیں آرہا، اسی لیے مذاکرات ختم ہوگئے
- 24, جنوری , 2025

نیوز ٹوڈے : پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو این آر او ملتا نظر نہیں آرہا، اسی لیے مذاکرات ختم ہوئے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ 9 مئی یا 190 ملین پاؤنڈز کے کیسز سے بچ نہیں سکتا، یہ اوپن اینڈ شٹ کیسز ہیں۔ ہم نے تحریری مطالبات کے لیے تین اجلاسوں میں انتظار کیا، پی ٹی آئی 28 جنوری تک انتظار کرتی۔
انہوں نےکہا کہ اگر انتظامیہ صاحبزادہ حامد رضا کو گرفتار کرنا چاہتی تو کر لیتی، جیسا کہ ان کا کہنا ہے کہ یہاں سے پہلے بھی گرفتاریاں ہوتی رہی ہیں، اگر انہیں کل گرفتار نہیں کرنا تھا تو اسی لیے گرفتار نہیں کیا گیا. مذاکرات پر میں کہوں گا کہ مذاکرات کے تین دور ہوئے، پہلے دو سیشنز میں تحریک انصاف تحریری مطالبات نہیں دے سکی، اب ہم نے 7 ورکنگ ڈے مانگے ہیں، جو 28 جنوری کو بنتے ہیں، سات اتحادی جماعتیں ہیں، جس کو اپنی جماعتوں اور قانونی ماہرین سے مشورہ کرنا ہوتا ہے۔
مذاکرات ختم کرنے میں کیا مسئلہ ہے، یہ مذاکرات سات این آر او بنانا چاہتے ہیں، ملتے نظر نہیں آرہے، بانی نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی یا دہشت گردی سے لڑنے کا نہیں کہا، دو مطالبات معافی تھے۔ این آر او اس لیے مانگے جا رہے ہیں کہ یہ اوپن اینڈ شٹ کیسز ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ 9 مئی یا 190 ملین پاؤنڈ کے کیسز سے بچ نہیں سکتے۔ پروگرام میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ حکومت سے مذاکرات تقریباً ختم ہو چکے ہیں، بانی نے کہا کہ اگر آج کی تاریخ پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر رضامندی ظاہر نہیں کی گئی تو پھر مذاکرات ہو جائیں گے۔ ختم
کل گرفتاری کی کوشش کی گئی تھی، لیکن ہمارے پاس 2500 آدمی تھے۔ مجھے ایک فون آیا کہ وہ سیکورٹی فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ 9 مئی کا کیس کھلا اور بند ہوتا تو عمران خان کو دو منٹ میں سزا ہو چکی ہوتی۔

تبصرے