حکومت مشاورت کے بغیر فیصلے کر کے اپنے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے، بلاول بھٹو
- 24, جنوری , 2025

نیوز ٹوڈے : چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ حکومت مشاورت کے بغیر فیصلے کر کے اپنے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے، جب حکمران جو مرضی کرنے لگیں تو پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جب یکطرفہ پالیسی بنائی جائے اور فیصلے کیے جائیں تو ان پر عملدرآمد مشکل ہو جاتا ہے، جب اتفاق رائے سے فیصلے کیے جائیں تو ان فیصلوں پر عمل درآمد آسان ہو جاتا ہے، 18ویں ترمیم اتفاق رائے سے کی گئی۔ آج کوئی بھی اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت ایسی پالیسیاں بناتی ہے جیسے اس کے پاس دو تہائی اکثریت ہو، حکومت اتحادیوں سے مشاورت کرتی تو شاید پالیسیوں پر بہتر اور کامیابی سے عملدرآمد ہوتا، چاہتے ہیں کہ پاکستانی معیشت بھی اسی طرح ترقی کرے۔ جس طرح سے OGDL ترقی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی تین نسلوں سے کارکنوں کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ ہم مزدوروں اور مزدوروں کے ساتھ مل کر پاکستان میں آئین لائے۔ ہم نے آمروں ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور میں کارکنوں کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنایا۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو لیبر پالیسی دی۔ بھٹو نے ملک میں پنشن اور کم از کم اجرت کا نظام متعارف کرایا۔ محنت کشوں کو ان کی محنت کا صلہ ملے گا تو معیشت چل سکے گی۔ ملازمین کی تنخواہیں 10 سال میں مہنگائی کی شرح کے مطابق بڑھائی جائیں۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایشوز کی بنیاد پر سیاست نہیں کی جارہی۔ مسائل اٹھانا سیاسی کارکنوں کی ذمہ داری ہے۔ سیاسی کارکن ہمیں اور میڈیا کو مجبور کریں کہ وہ کسی قیدی کو گرفتار کرنے اور رہا کرنے کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دیں۔

تبصرے