ترکی سیریا میں کردوں کے ساتھ ساتھ امریکہ کے فوجی ٹھکانوں پر بھی حملے کر رہا ہے

25 November,2022

   ترکی کے صدر رجب طیب اردگان یہ ارادہ کر چکے ہیں کہ وہ سیریا اور عراق سے کرد لڑاکوں کا نام و نشان مٹا کر ہی دم لیں گے چاہے اس کیلیے انھیں سپر پاور امریکہ جیسے ملک کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے اور اس کیلیے وہ کرد لڑاکوں کے ساتھ ساتھ امریکہ کے فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں ۔

 

   ترکی سیریا کے تیل کے ذخیروں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے سیریا کی ایک تیل ریفائنری پر ترکی کی بمباری کی وجہ سے وہاں آگ لگ گئ اصل میں ترکی کا نشانہ کرد لڑاکوں کا ایک مضبوط قلعہ ایس ڈی ایف ہے جس کے لڑاکے ترکی پر حملے کرتے ہیں اور دہشتگردی پھیلاتے ہیں اسی لیے اردگان کردوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔

 

   ترکی اس ہفتے لگاتار کردوں کے ٹھکانوں پر ہوائ حملے کر رہا ہے اور اس کے کئ ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں ترکی کا ساتھ دینے والےسلیمان شاہ کرد نے بھی جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں اور وہ کردوں کے خلاف زمینی جنگ کی تیاری کرنے لگے ہیں ۔

 

   ترکی نے امریکہ پر بھی یہ الزام لگایا ہے کہ وہ کردوں کا ساتھ دے رہا ہے اس لیے ترکی نے سیریا میں امریکہ کے کئ فوجی ٹھکانوں پر بھی بم برساۓ اور ترکی نے امریکہ کے ایک ٹریننگ سینٹر پر بھی ہوائ حملہ کیا ہے ۔

 

   ترکی یہ واضح کہہ چکا ہے کہ وہ سیریا میں کردوں کا ساتھ دینے والوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور اب ترکی نے اس کا ثبوت بھی دے دیا ہے اس نے امریکہ کے ایک فوجی ٹھکانے سے صرف 300 میٹر دور ایک تیل ریفائنری کو تباہ کر کے امریکہ کو یہ بتا دیا کہ یہ حملہ اس کے فوجی ٹھکانے پر بھی ہو سکتا تھا ۔

 

   امریکہ نے بھی ترکی کو دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ اسے ہوائ حملے روکنے ہوں گے کیونکہ ان حملوں سے سیریا میں موجود 900 امریکی فوجیوں کی جان کو بھی خطرہ ہے اس لیے وہ ترکی پر زور دے رہا ہے کیونکہ ایس ڈی ایف کے کرد ہی امریکی فوجیوں کی مدد کر رہے ہیں اس لیے ایس ڈی ایف کے تحفظ کیلیے بھی ترکی کے حملوں کو روکنا امریکہ کیلیے ضروری ہے ۔

 

   

 

   

 

 

Share This Article