امریکی اور ترک ترجمان کی عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے اہم بیٹھک

26 April,2022

 

ترک صدارتی ترجمان کی امریکی کانگرس کے حکام سے ملاقات ہوئی۔دونوں  فریقین نے ایک دوسرے کے ساتھ مسائل پر مل کے کام کرنےاور تعلقات کو فروغ دینے پر بات کی۔ دونوں حکام کا کہنا تھا کہ ہم ایک نئے وقت میں داخل ہو رہے ہیں یہ دور سرد جنگ کا دور ہے۔ففتھ جنریشن وار فیئر اور مستقبل میں اس کے اثرات کے لیے ہمیں تیاری کرنی چاہیے۔ خوراک،توانائی اور دیگر محرومیوں پر دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

 

ابراہیم کالن نے امریکی کانگرس کے ارکان سے استنبول میں ملاقات کی ،صدارتی ترجمان  نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ  ترک امریکی  تعلقات کو دو طرفہ مفادات اور احترام کی بنیاد پر فروغ دیا جا سکتا ہے۔ملاقات میں علاقائی مسائل مثلاً شام، آذربائیجان، آرمینئیا   اور خاص کر روس اور یوکرین کے تنازع پر  تبادلہ خیال کیا۔اس کے ساتھ ساتھ دونوں فریقین کی جانب سے سیاسی اور اقتصادی  تعلقات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

 

ملاقات سے قبل کالن نے کہا کہ امریکہ اور ترکی کے تعلقات کافی قدیم ہیں ۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد ترکی جب نیٹو الائنس میں شامل ہوا تو اس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات مزید  اچھے ہوتے گئےجو کہ ابھی تک قائم دائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض موضوع پر اختلافِ رائے ہونے کے با وجود موجودہ  تعلقات میں سٹریٹیجک تعاون اور مفادات کو مدِ نظر رکھنا زیادہ ضروری ہے،انہوں نے امریکی حکام کے ساتھ ایک اور ڈائیلاگ شروع ہونے پرمطمئن ہونے کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم باہمی دلچسپی اور احترام کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

 

دونوں ممالک کے بیچ  تجارتی حجم ۳۰ بلین ڈالر ہے ۔کالن نے کہا کہ ہم اس کو ۱۰۰ بلین ڈالرز پر لے کر جانا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب سے روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے تب سے کشیدگی بہت بڑھ چکی ہے اور ہر جگہ کسی نہ کسی بحران کا سامنا ہے۔ہمیں مستقبل میں اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ابھی سے جدوجہد کرنی چاہیے۔ یاد رہے کہ ترکی دو دفعہ  روس اور یوکرین کے ڈائیلاگ کے لیے اجلاس منعقد کروا چکا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ حالات بہتر ہو سکتے تھے مگر صورتحال کچھ زیادہ خراب ہو گئ۔

 

امریکی سینیٹررچرڈ شیلبی کا کہنا تھا کہ ترکی ہمارا ایک اہم دوست ہےاور امریکہ ہمیشہ تجارتی،سفارتی اور فوجی مسائل میں ترکی کی مدد کرے گا۔ ترکی ماضی اور حال میں نیٹو کا  ایک اہم اور وفادار رکن ہے جس کی ہم عزت کرتے ہیں۔  

 

Share This Article