حکومت کا توانائی بحران کے خلاف ایکشن،شہباز شریف کی زیرِ صدارت منصوبہ تیار

09 May,2022

 

حکومت نے عوام کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لیے منصوبہ  تیار کر لیا ۔ رپورٹس کے مطابق ایل این جی ٹرمینل آپریٹرز کو  دیگر طویل  معاہدوں پر دستخط کرنے کی اجازے دے دی گئی ہے۔  وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی وزیر پاور ڈویثرن اور وزیرِ مملکت برائے پٹرولیم امور نے توانائی بحران سے نکلنے کے لیے منصوبہ تیار کر لیا ہے جس میں عوام کو ریلیف دینے کی بات دی گئی۔ اس منصوبے کے مطابق  ایل این جی ٹرمینل آپریٹرز  کو مزید ایل این جی کی درآمد کے لیے اپنی صلاحیت استعمال کرنے کی پوری اجازت ہو گی،اس کے ساتھ ساتھ ٹرمینل  آپریٹرز طویل بی  ٹو بی معاہدوں پر بھی دستخط کر سکتے  ہیں۔

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کی  جانب سے پی جی پی ایل ٹرمینل میں خریدی گئی ۶۰۰ ایم ایم سی ایف ڈی کی  کچھ مقدار نجی شعبہ جات کو بھی فراہم کی جائے گی۔ شہباز حکومت نے گوادر  ورچوئل پائپ لائن ایل این جی  کے پراجیکٹ کو بھی آپریشنل کرنے کا حتمی فیصلہ دے دیا ہے جس کو گزشتہ حکومت نے اپنے ذاتی اور مبینہ مفادات کے خلاف روک دیا  تھا۔

 

اگر یہ پراجیکٹ آپریشنل ہو گیا تو نہ صرف یہ گوادر کی توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکے گا بلکہ ملک کے ان علاقوں میں بھی توانائی کی ضروریات کو پورا کے گا جہاں پائپ گیس ایک طویل عرصے سے موجود نہیں ہے۔ اس منصوبے میں ایک اہم اقدام  کا بھی ذکر کیا گیا جس کے مطابق گوادر کو ایل این جی اور آئل ہب بنانے کا  منصوبہ بنایا گیا ہے۔اس سلسلے میں آسان اور لبرل  پالیسیوں کا بھی اعلان کیا جائے گا جس سے  انویسٹر با آسانی سرمایہ کاری کر سکے گا۔

 

ن لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے ایک انٹر ویو میں میڈیا کو بتایا کہ  ز حکومت ایل این جی پیدا کرنے والے ملکوں سے بھی مزید رابطے میں رہے گی جس  کی بدولت پاکستان میں سستی قیمتوں پر ایل این جی کی فراہمی کو  یقینی بنایا جائے گا ۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ تریموں جھنگ، بلوکی اور بھکی میں چار  ایل این جی پر مبنی پاور پلانٹس کو اس وقت ایل این جی کی بڑی مقدار درکار ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے ڈسکوز  کی  نجکاری کی بات کرتے ہوئے کہا کہ  پاور سیکٹر  پر مسلط قرضے کو ختم کرنے  کا ایک یہ طریقہ کار ہے۔اس سے ملک اور عوام دونوں کو فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

Share This Article