روس یوکرین جنگ بالآخر عالمی جنگ کی صورت اختیار کر گئ

24 May,2022

اس وقت پوری دنیا اناج کی کمی جیسے مسئلے سے دوچار ہے روس نے بلیک سی کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور یوکرین کے سمندری تجارت کے تمام راستے بند کر دیے ہیں جس کی وجہ سے خوراک کی کمی اس وقت ایک شدید عالمی مسئلہ بن چکا ہے 

 

امریکہ اس کوشش میں ہے کہ بلیک سی میں واقع روس کا وہ پل تباہ ہو جاۓ جو روس کو کریمیا سے جوڑتا ہے اور اگر وہ پل سمندر میں گر گیا تو روس کی طاقت بھی بہہ جاۓ گی اس مقصد کیلیے امریکہ نے کئ سب مرین اور دوسرے ہتھیار یوکرین کو دیے ہیں جو اس پل کو اڑا سکیں یوکرین نے اس پل کو گرانے کی دھمکی بھی دی ہے اور روس کی سمندری فوج  یوکرین یا نیٹو کو اس پل کے قریب بھی بھٹکنے نہیں دے رہی اور روس یہ کہہ چکا ہے کہ اگر اس پل پر حملہ ہوا تو وہ بھی ایٹم بم کا استعمال کرے گا ۔

 

اس وقت دنیا میں 81 کروڑ لوگ بھوک کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ دنیا کے 40 کروڑ لوگوں کا پیٹ یوکرین کے اناج سے بھرا جا سکتا ہے روس بھی اناج کی پیداوار کیلیے بہت اہم ملک ہے اور اس وقت ان دونوں ملکوں کا اناج ان کے گوداموں میں پڑا ہے اور دنیا بھوک سے مر رہی ہے ۔ 

 

ان حالات میں امریکہ کی پریشانی بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ دنیا میں ہی نہیں بلکہ امریکہ کی عوام بھی اناج کی قلت کا ذمہ دار امریکہ کو ہی ٹھہرا رہی ہے روس نے بھی ان حالات کا ذمہ دار امریکہ کو ہی ٹھہرایا ہے کیونکہ اس وقت روس کو کسی بھی طرح اس بات کیلیے تیار کرناضروری ہے کہ یوکرین کا اناج بلیک سی کے راستے فروخت ہو سکے کیونکہ اس جنگ کی وجہ سے وہ بھی پس رہے ہیں جو اس جنگ میں شامل ہی نہیں ۔ 

 

مزید پڑھیں: کواڈ ملاقات کے بعد روس اور چین کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے
 

Share This Article