کیا دنیا کو نظر آنے والا روس کاصدر پیوٹن اصلی ہے یا ان کا باڈی ڈبل ہے

30 May,2022

روس ، یوکرین جنگ سے متعلق ہر روز اور ہر لمحے نئ نئ خبریں سامنے آ رہی ہیں دونوں ملک اس جنگ میں نۓ نۓ ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں لیکن آج کی یہ خبر نہ تو جنگ سے متعلق ہے اور نہ ہی کسی ہتھیار کے بارے میں ہے بلکہ یہ خبر روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کی ذاتی زندگی سے متعلق ہے ۔

 

برطانیہ کی ایک خفیہ ایجنسی ایم آئ 6 نے یہ دعو'ی کیا ہے کہ جو شخص دنیا کے سامنے روس کے صدر کی حیثیت سے چلتا پھرتا نظر آ رہا ہے وہ شخص اصل میں پیوٹن نہیں بلکہ پیوٹن کا باڈی ڈبل یا ڈوپلیکیٹ ہے اس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کچھ ایسے حقائق بھی سامنے آۓ ہیں جنہیں پیوٹن کی موت کا ثبوت مانا جا رہا ہے یعنی ایم آئ 6 نے یہ دعو'ی بھی کیا ہے کہ اصل پیوٹن کی موت واقع ہو چکی ہے ۔

 

اس مسئلے کو لے کر کئ دعوے کیے گۓ کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ دعو'ی کیا گیا کہ پیوٹن کو کینسر جیسی کوئ خطرناک بیماری لاحق ہے جس کا کافی عرصے سے علاج چل رہا ہے کچھ دعوے کۓ گۓ کہ پیوٹن کو کوئ ایسی بیماری لگ گئ ہے کہ ان کی حالت روز بروز بگڑتی جا رہی ہے ۔

 

لیکن ماسکو نے ان تمام رپورٹس کو ہمیشہ جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوۓ انھیں رد کر دیا ماسکو رپورٹس کے مطابق پیوٹن بالکل تندرست ہیں اور اگر انہیں ایسی کوئ بیماری لاحق ہوتی اور وہ لمبے عرصے سے علاج کروا رہے ہوتے تو وہ بار بار لوگوں کے سامنے کیسے آ سکتے تھے ۔

 

روس کے اس جواب سے یہ بات سامنے آئ ہے کہ پیوٹن کی موت کی خبر میں کوئ حقیقت نہیں بلکہ پیوٹن کے خلاف کوئ پراپیگنڈہ ہے جس طرح دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کو لے کر ایسے ہی پراپیگنڈے کیے گۓ اس طرح یورپی میڈیا نے بھی پیوٹن کی ذاتی زندگی کو لے کر ایسی افواہیں پھیلانا شروع کر دیا ہے ۔

 

لیکن پیوٹن کے ڈوپلیکیٹ کو لے کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے پیوٹن اپنا کوئ باڈی ڈبل رکھتے ہوں کیونکہ دنیا کے کئ بڑے لیڈر ایسا کر چکے ہیں 2020ء میں یہ کہا گیا تھا کہ شمالی کوریا کے کم جانگ اپنا ایک باڈی ڈبل رکھتے ہیں کیونکہ جب وہ بیمار تھے اور ہسپتال میں تھے تو ان کا باڈی ڈبل ہی تھا جو ان کے تمام امور حکومت انجام دیتا رہا ۔

 

القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اپنا ایک باڈی ڈبل رکھتا تھا جو بالکل اسامہ جیسا تھا امریکی حکومت کو بیوقوف بنانے اور خود کو چھپانے کیلیے اسامہ باڈی ڈبل رکھتا تھا ۔

 

عراق کے صدر صدام حسین نے تو اپنے کئ باڈی ڈبل بنا رکھے تھے دو باڈی ڈبل محل میں ہر وقت اس کے ساتھ رہتے تھے اور محل کے عملے کیلیے بھی یہ مشکل ہو جاتا تھا کہ وہ صدام حسین سے بات کر رہے ہیں یا باڈی ڈبل سے ۔

 

مزید پڑھیں: یوکرین میں روس نے آخر کار اپنا مقصد حاصل کر لیا
 

Share This Article