چین نے امریکہ کی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوۓ اپنا فیصلہ سنا دیا

31 May,2022

چین اور تائوان کے درمیان حالات دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں چین نے تائوان میں 30 جنگی طیارے بھیجے ہیں تائوان کی طرف سے یہ دعو'ی کیا گیا چین کے ان اقدام سے لگتا ہے کہ چین نے تائوان کو جنگ کا اشارہ دے دیا ہے دوسری طرف جن دس ممالک کے ساتھ چین سیکیورٹی سمجھوتہ کرنا چاہتا تھا وہ کینسل ہو گئ یہ بات چین کیلیے قابل تشویش تو ہے مگر چین کے سامنے اس وقت اہم بات یوکرین کو اپنے قبضے میں لینا ہے ۔

 

چین کے ساتھ یہ ڈیل کرنے والے ممالک میں سے کچھ ملکوں کے رہنماؤں نے حال ہی میں وائٹ ہاؤس میں بائڈن سے ملاقات کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ان ممالک کو چین کے خلاف اکسا رہا ہے  اور امریکہ کی وجہ سے ہی ان ملکوں نے چین کے ساتھ تجارتی اور سیکیورٹی سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔

 

چین نے تائوان حملے کی تیاریاں مکمل کر لیں ہیں کیونکہ چین کے سامنے اور ساری دنیا کے سامنے روس اور یوکرین کی مثال ہے کہ یوکرین کو امریکہ اور نیٹو نے خوب مدد پہنچائ اور روس پر پابندیاں بھی لگائ گئیں لیکن ان سب کے باوجود روس نے یوکرین کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں کر لیا ہے تقریباََ ٪95 حصے پر روس قابض ہو چکا ہے اور امریکہ اور نیٹو روس کا کچھ نہ بگاڑ سکے ۔

 

یہ سب کچھ چین دیکھ رہا ہے اور جانتا ہے کہ یورپ اور امریکہ نے یوکرین کا ساتھ دیا ہے تو اس سے روس کو کچھ خاص فرق نہیں پڑا بلکہ یورپ اور امریکہ میں تیل اور گیس کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگیں اور یورپی ممالک روس سے دشمنی کے باوجود روسی کرنسی میں تیل اور گیس خریدنے پر مجبور ہیں ۔

 

اس طرح روس نے اناج کی سپلائ روک کر یورپ ، نیٹو اور پوری دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تو اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ جیت ہمیشہ طاقت کی ہی ہوتی ہے یوکرین دوسرے ملکوں کی مدد سے چند دن روس کے سامنے کھڑا تو رہا لیکن روس کو شکست نہ دے سکا ۔

 

چین یہ بات جان چکا ہے کہ امریکہ یا کوئ اور ملک اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور وہ تائوان کو چین کے خلاف کچھ ہتھیار تو دیں گے لیکن چین کے خلاف تائوان کے ساتھ مل کر جنگ نہیں لڑیں گے اس لیے چین امریکہ کی چالوں اور پابندیوں کو کسی خاطر میں نہیں لا رہا ۔

 

مزید پڑھیں: روس نے سرمت میزائل کا نشانہ بننے والے ملک کا نام فہرست میں لکھ دیا ہے
 

Share This Article