شوبھدیپ سنگھ سدھو کا قاتل کون؟

دانیال احمد خان
31 May,2022

شو بھدیپ سنگھ سدھو جو کہ  اپنے سٹیج  کے نام  سدھو  موسے والا سے مشہور تھے ۔سدھو  ۱۱ جون ۱۹۹۳ کو پیدا ہو ئے۔ سدھو ایک ہندوستانی گلوکار،ریپر،اداکار اور سیاستدان تھے،پنجابی سینما اور پنجابی موسیقی میں   سدھو کا نام  ہمیشہ زندہ رہے گا۔ انھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور نغمہ نگار نِنجا کے گانے "لائسنس" کے لیے کیا، اور اپنے گلوکاری کے کیریئر کا آغاز "جی ویگن" کے عنوان سے ایک جوڑی گانے سے کیا۔

 

سدھو  نے  بھارت میں ہونے والے کئی ظلم و ستم کے خلاف  اپنی  مو سیقی کے ذریعے آواز بلند کی ،خاص کر کسان اور پنجابی برادری   سے ان کا  گہرا تعلق تھا۔ سدھوموسے والا نے اپنے آبائی ضلع مانسا کی نشست سے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔  انہوں نے گزشتہ برس نومبر میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ سدھو موسے والا ایک نامور سیاست دان تھے اور ان کے مداحوں کی تعداد میں کچھ برسوں سے کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

 

سکھوں کے ساتھ غیر مساوی سلوک اور سرِ عام  ان کے حقوق کی توہین پر سدھو موسے والا نے ہمیشہ اپنی آواز بلند کر کے سکھوں کا ساتھ دیا۔سکھ برادری  کے لیے سدھو نے بہت سے معرکے سر انجام دیے۔سدھو موسے  والا  نے خا لصتان کی تحریک میں   بھی سکھوں کا بھرپور ساتھ دیا اور سکھوں کے  لیےعلیحدہ ملک کی  حمایت  کی،مگر سدھو کا  کھلے عام  حکومت کے خلاف جا کر سکھوں کا اس طرح مسیحا بننا  حکومت کو بالکل پسند نہیں آیا۔

 

چنانچہ سدھو کے ساتھ بھی وہی سب کچھ ہونے  لگا  جو  نوجوت سنگھ سدھو کے ساتھ ہوتا آیا ہے،کبھی سرکار کی طرف سے دبائو  بڑھنے لگاتو کبھی نا معلوم افراد کی طرف سے تھریٹس  آنے لگے ۔

 

سدھو کا ایک گانا  دو سو پچانوے پوری دنیا میں کافی مقبول  ہوا مگر ساتھ ہی ساتھ ان کو بھارت کے اندر سے طنز کا بھی سامنا کرنا پڑا،اپنے اس گانے میں انہوں نے کسانوں اور بھارت   میں رہنے والے دوسرے لوگوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی تھی،پُر اسرار بات یہ ہے کہ ان کی موت  بھی ۲۹ مئی  کو ہوئی۔ سدھو موسے والا کو  ۲۹ مئی ۲۰۲۲ کو پنجاب کے شہر  مانسہ میں نا معلوم افراد   نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ، واردات کے دوران  ۳۰ رائونڈز فائر کیے گئے۔ اس واقعے کے بعد سدھو کو مردہ حا لت میں سول ہسپتال مانسہ لایا گیا۔

 

یہ واقع ریا ستی حکومت کی جانب سے  ۴۲۰ سے زائد افراد کی سیکیورٹی واپس لینے کے ایک دن بعد پیش آیا،ان افراد  میں سدھو بھی شامل تھے،موقع واردات کے دوران سدھو  کےساتھ ان کی سیکیورٹی موجود ہی نہیں تھی اور نہ وہ ریاست کی طرف سے فراہم کر دہ بُلٹ پروف گاڑی پر سفر کر رہے تھے ۔

 

بھارتی میڈیا کے مطابق، سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کینیڈا میں مقیم ایک گینگسٹر اور مطلوب مجرم گولڈی برار  نے گلوکار سدھو موسے والا کے بہیمانہ قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

 

فیس بک پوسٹ میں برار نے دعوی کیا کہ ’میں، سچن بشنوئی دھترانوالی، لارنس بشنوئی گروپ کے ساتھ، سدھو موسے والا کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔تاہم ابھی تک  بھارتی میڈیا نے اس بات کی تصدیق نہیں کی۔

 

یہ واقعہ پنجاب پولیس کی جانب سے سابق ایم ایل ایز، دو تختوں کے جاتھیداروں، ڈیروں کے سربراہوں اور پولیس افسران سمیت 420 سے زائد افراد کے ساتھ ان کی سیکیورٹی واپس لینے کا حکم دینے کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ سیاسی جماعت کانگرس نے بھی ان کی موت پر یکجہتی کا اظہار کیا ۔

 

مزید پڑھیں: کھارا در میں دھماکا ،پولیس موبائل کو ٹارگٹ کیا گیا، ۱۳افراد زخمی اور ایک خاتون جاں بحق

Share This Article