عمران خان نے بیان دیا کہ پُر امن احتجاج نہیں کرنے دیا گیا،اگر اسلام آباد بیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہوتا

دانیال احمد خان
31 May,2022

عمران خان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو پُرامن احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی اگر میں اسلام آباد میں بیٹھ جاتا تو خون خرابہ  زیادہ ہونا تھا، اسلام آباد سے واپس آنے کو کوئی ڈیل یا ہماری کمزوری نہ سمجھے بلکہ ہم نے امن و استحکام کی خاطر یہ فیصلہ کیا۔

 

پشاور میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 30 سال سے کرپشن میں ملوث لوگوں کو ملک پر مسلط کیا گیا مگر عوام کی خاطر مین نے ان کے خلاف اپن جنگ جاری رکھی اور مرتے دم تک رکھوں گا،میری باقی زندگی اس قوم کی حقیقی آزادی کے لیے ہے۔

 

عمران خان نے شکا یت کی  کہ پنجاب پولیس نے عورتوں اور بچوں کا بھی لحاظ نہ رکھا اور ہمارے کارکنوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ہماری درخواست پر عدالت نے ایڈوائس جاری کی مگر عدالت کا حکم ماننے سے انکار کر کے پولیس کے کرپٹ افسروں کو بٹھا کر  ہمارے راستوں میں رکاوٹیں لگائی گئیں۔

 

انہوں نے کہا کہ 6 دن میں  اگر الیکشن کی تاریخ نہ دی تو پھر نکلیں گے اور ا س بار تعداد بھی زیادہ ہوگی ،اسمبلیاں توڑنے اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو اب تیاری سے نکلیں گے۔

 

عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ کر سوال کیے ہیں،  خط مں عمران خان نے پوچھا  کہ جمہوری ملک میں پر امن احتجاج کا حق ہے یا نہیں؟ کیا ہم چپ کرکے سب مان لیں گے؟

 

عمران خان نے کہا کہ مجھے سپریم کورٹ سے امید ہے، ان کا بڑا مثبت رول ہے، ہم سپریم کورٹ سے تحفظ چاہتےہیں، اگلی بار اس طرح  کے اقدامات کی ذمہ دار حکومت  خود ہوگی۔

 

مزید پڑھیں: عمران خان کا بڑا الٹی میٹم ، حکومت کو چھ دن کی مہلت دے دی

Share This Article