بحیرہ بالٹک میں روس اور نیٹو آمنے سامنے آ چکے ہیں

بلیک سی میں یورپ کے مرکزی دروازے پر روس قبضہ کر چکا ہے اور اب نیٹو ملکوں کو یہ ڈر ستا رہا ہے کہ اگر بحیرہ بالٹک پر بھی روس نے قبضہ کر لیا تو ان کے تمام سمندری راستے بند ہو جائیں گے اور وہ ایسا کسی صورت نہیں چاہتے ۔

 

اس لیے نیٹو کے اہم اور طاقتور ملک بحیرہ بالٹک سے ملحق پانچ ملکوں کو ہتھیار بنا رہے ہیں جو کبھی سوویت یونین کا حصہ تھے اور نیٹو اب ان ملکوں کو روس کے خلاف اکسا رہے ہیں یہ ایسے پانچ ملک ہیں جن کی کمان عورتوں کے ہاتھ میں ہے ۔

 

ان میں فن لینڈ کی وزیر اعظم ثنا میرین ، سویڈن کی وزیر اعظم میگڈلنا اینڈرسن ، ایستونیا کی وزیر اعظم کازا کالاس ، لتھوانیا کی وزیر اعظم انگریڈا سیمینوۓ اورڈنمارک کی وزیر اعظم  میٹی فریڈرکسن شامل ہیں ان پانچ ملکوں کا مقابلہ بحیرہ بالٹک سے ملحق روس کے ساتھ ہے ۔

 

روس کے سامنے اب پانچ عورتوں کے ملک ہیں ان نیٹو ملکوں کو نیٹو کے باقی ممالک کی مدد حاصل ہے حالانکہ سبھی نیٹو ملک روس کے مخالف ہیں لیکن اس وقت ان میں سے پانچ ملک زیارہ بھڑک رہے ہیں یہ پانچوں ملک پہلے سوویت یونین کا حصہ تھے لیکن بعد میں سوویت یونین سے نکل کر الگ الگ ملک بن گۓ اب انھیں روس کی طرف سے ڈر ہے کہ کہیں روس یوکرین کی طرح ان پر بھی حملہ نہ کر دے ۔

 

اس بات کا اظہار فن لینڈ اور سویڈن کی وزیر اعظم کئ بار کر چکی ہیں کہ وہ نیٹو میں شامل ہو کر پیوٹن کے منصوبوں کو پورا نہیں ہونے دیں گی کیونکہ نیٹو میں شامل ہوجانے سے روس ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاۓ گا ۔

 

فن لینڈ اور سویڈن بڑے ملک ہیں یہ دونوں ملک یوکرین کی ہتھیاروں سے مدد بھی کر رہے ہیں اس لیے پیوٹن ان دونوں ملکوں کو سبق سکھانے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں یہاں تک کہ روس  فن لینڈ کی سرحد پر اپنی میزائلیں بھی تعینات کر چکے ہیں ۔

 

ایستونیا کی وزیر اعظم بھی کئ موقعوں پر روس کے خلاف بیان دے چکی ہیں کازا کالاس کے اس طرح روس کے خلاف بیان بازی پر پیوٹن بھی غصے میں آ گۓ اور اپنی طاقت دکھانی شروع کر دی اور روس کا ایک ایم آئ آرہیلی کاپٹر ایستونیا میں جا گھسا جو تقریباً دو منٹ تک ایستونیا کے آسمان میں پرواز کرتا رہا ۔

 

اس واقعے کے بعد ان ملکوں میں تناؤ بڑھ گیا ہے یہ روس کی طرف سے بالٹک ملکوں کو دھمکی دی گئ ہے کہ اگر وہ نیٹو کے بہکاوے میں آۓ تو ان کا انجام اچھا نہیں ہو گا اس بات کا اندازہ خود نیٹو کو بھی ہے اس لیے تینوں بالٹک ملکوں میں نیٹو فوج تعینات کر دی گئ ہے یہ تینوں ملک سرد جنگ سے پہلے سوویت یونین کا حصہ تھے لیکن نیٹو کیوجہ سے سوویت سے الگ ہوۓ اور 2004 ء میں نیٹو میں شامل ہو گۓ اب پیوٹن دوبارہ سوویت یونین بنانا چاہتے ہیں اس لیے ان ملکوں کو ڈر ہے کہ  کہیں یوکرین کے بعد اگلا نمبر ان کا ہی نہ ہو ۔

 

مزید پڑھیں: کیپیٹل ہل حملہ کیس ، ٹرمپ کی مشیر کے کانگریس کے سامنے تہلکہ خیز انکشافات
 

 

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+