بیلا روس کے بعد روس کے ساتھ کئ اور ملک شامل ہو گۓ

یوکرین جنگ کے دوران روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے تاجکستان اور تر کمانستان کے دورے سے امریکہ اور نیٹو ملکوں میں کھلبلی مچ گئ کیونکہ روس یوکرین جنگ کے دوران پیوٹن نے ان ملکوں کا پہلی بار دورہ کیا جو کبھی سوویت یونین کا حصہ تھے ۔

 

پیوٹن نے پہلے تاجکستان کا دورہ کیا پھر ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد پہنچے وہاں انھوں نے ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف سے ملاقات کی پیوٹن کے ساتھ آذربائیجان ، قازکستان ، ایران اور ترکمانستان کے رہنماؤں نے ملاقات کی ۔

 

 پیوٹن کے اس دورے پر امریکہ کی نظریں بھی لگی رہیں کیونکہ یوکرین میں جنگ چھڑنے کے بعد امریکہ سمیت کئ اور ملکوں نے روس کو الگ تھلگ کر دیا اور ساتھ ہی روس پر کئ پابندیاں بھی لگا دیں ان ملکوں کی کوشش یہی تھی کہ پیوٹن کو اتنا مجبور کر دیا جاۓ کہ وہ خود ہی جنگ سے قدم پیچھے کھینچ لیں ۔

 

لیکن پیوٹن نے جنگ ختم کرنے کے بجاۓ یوکرین پر حملے اور تیز کر دیے اور ان ملکوں کی پابندیوں اور دھمکیوں کو کسی خاطر میں نہ لاۓ اور اب وہ ان ملکوں سے تعلقات مضبوط کر رہے ہیں جو ان کے دوستوں کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔

 

حالانکہ ان ملکوں نے جنگ کے چار مہینے گزر جانے کے بعد بھی کبھی کھل کر روس کا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی روس کے یوکرین پر حملے کی کبھی مذمت کی ہے بلکہ اس جنگ میں ان دونوں ملکوں تاجکستان اور ترکمانستان نے چپ ہی سادھ لی ہے اور جنگ روکنے کیلیے یو این میں روس کے خلاف ووٹنگ میں ان دونوں ملکوں نے حصہ ہی نہیں لیا ۔

 

تاجکستان کے ساتھ روس کے بہت مضبوط رشتے ہیں تاجکستان میں روسی فوج کا بہت بڑا فوجی اڈہ ہے اور تاجکستان کی معیشت میں بھی بڑا ہاتھ روس کا ہے کیونکہ بہت سے تاجکستانی روس میں کام کرتے ہیں اور وہاں سے پیسہ اپنے ملک بھیجتے ہیں ایسے میں روس کی معیشت پر لگنے والی پابندیوں کا اثر تاجکستان پر بھی پڑے گا ۔

 

اس طرح ترکمانستان کے ساتھ بھی روس کے مضبوط اور قریبی رشتے ہیں اور روس اپنے مخالفوں کو کرارہ جواب دینے کیلیے ان ملکوں کو اعلانیہ اپنے ساتھ شامل کر سکتے ہیں اور امریکہ اور نیٹو کو بتا سکتے ہیں کہ بیلا روس کے بعد کئ اور ملک ان کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں ۔

 

مزید پڑھیں: روس نے ان سات ملکوں کی تصویریں جاری کی ہیں جو اس کے نشانے پر آ چکے ہیں

 

 

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+