نیٹو کے تیس ملکوں نے فن لینڈ اور سویڈن کو نیٹو میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے

روس یوکرین جنگ کے حوالےایک اور بڑی خبرسامنے آئ ہے اور وہ یہ کہ تقریباً ساڑھے چار مہینے سے جنگ کی آگ میں سلگتے ہوۓ یورپ کی دہلیز روس کے شمال تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ روس کے دشمنوں کی فہرست میں دو اور نام شامل ہو گۓ ہیں اور وہ ہیں روس کے شمال میں واقع فن لینڈ اور سویڈن ۔

 

فن لینڈ اور سویڈن جو کہ باقاعدہ طور پر نیٹو میں شامل ہو گۓ ہیں نیٹو کے 30 ملکوں نے سویڈن اور فن لینڈ کو نیٹو میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے اس کے جواب میں روس نے بھی اپنی نیو کلیئر میزائل بحیرہ بالٹک میں تعینات کر دی ہے ۔

 

روس کی یہ تیاری کیا کہہ رہی ہے کہ پیوٹن کیا کرنے والے ہیں کیونکہ روس نے لوہانس میں روسی فوجیوں کی جیت کے بعد اب یوکرین کے باقی بچے ہوۓ شہروں پر بھی حملے کا حکم دے دیا ہے پیوٹن کا حکم ہے کہ اب حملے نہیں رکیں گے اور اس کیلیے پیوٹن نے یوکرین میں فوج کی تعیناتی بھی بڑھا دی ہے ۔

 

دنیا جانتی ہے کہ یوکرین کی بربادی کی وجہ ہے زیلینسکی کی نیٹو میں شامل ہونے کی ضد تو اب روس کے شمالی پڑوسیوں کا حال بھی یوکرین جیسا ہی ہونے والا ہے سویڈن اور فن لینڈ پر اگر روس نے حملہ کیا تو کیا نیٹو ان دونوں ملکوں کی مدد کرے گا کیا نیٹو اپنی فوج فن لینڈ اور سویڈن میں بھی تعینات کریں گے اور کیا نیٹو کے 30 ملک مل کر ان دونوں ملکوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے ۔

 

روس کے خلاف فن لینڈ اور سویڈن کو نیٹو میں شامل کرنا روس کے خلاف نیٹو کی بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ روس کے پڑوس میں ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ جمع کرنے کیلیے نیٹو کو دو اور ٹھکانے مل گۓ ہیں اور ان کی خواہش جو کہ یوکرین میں پوری نہ ہو سکی وہ ان دونوں ملکوں کو ساتھ ملا کر پوری کریں گے ۔

 

لیکن پیوٹن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نیٹو کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور جہاں تک نیٹو کی بات ہے تو یہ روس کے خلاف جان بوجھ کر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے لیکن ایسی گستاخی انھیں مہنگی پڑے گی ۔

 

پیوٹن نے کہا ہے کہ جہاں تک سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کی بات ہے تو اس سے نیٹو کو کوئ مسئلہ نہیں ہے لیکن ان ملکوں میں فوج اور ہتھیاروں کی تعیناتی ہمارے لیے خطرے کا موجب ہو سکتا ہے اور اس کا جواب بھی ہم دیں گے ۔

 

پیوٹن نے صرف دھمکی ہی نہیں دی بلکہ ان دونوں ملکوں کی حد کی لکیر بھی طے کر دی ہے اور یوکرین پر حملے تیز کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی فوج کو بحیرہ بالٹک کی طرف رخ موڑنے کا حکم بھی دے دیا ہے اور اپنی سب سے خطرناک نیو کلیئر سب مرین کو بھی سویڈن اور فن لینڈ کے قریب پہنچا کر امریکہ سمیت سبھی نیٹو ملکوں کو اپنی طاقت دکھا دی ہے روس کی یہ سب مرین 90 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ سکتی ہے اور 2500کلو میٹر تک کے ٹارگٹ کو تباہ کر سکتی ہے اور اس میں ایک وقت میں 24 میزائلیں تعینات کی جا سکتی ہیں ۔

 

روس کی یہ سب مرین ایسا ہتھیار ہے جس سے یورپ کے ہر کونے کو دہلایا جا سکتا ہے فن لینڈ اور سویڈن کے نیٹو میں شامل ہونے کے برے اثرات اب یورپ میں دکھائ دینے لگے ہیں روس پہلے ہی ان دونوں ملکوں کو دھمکی دے چکا ہے اور اب اس نے اپنی سب مرین کو میدان میں اتار کر یہ واضح کر دیا ہے کہ روس صرف دھمکی ہی نہیں دیتا ایکشن بھی کر سکتا ہے اور اب سوال یہ ہے کہ کیا سویڈن اورفن لینڈ اگلے یوکرین بننے والے ہیں ۔

 

مزید پڑھیں: امریکہ کو جنگی میدان میں اتارنے کیلیے جاپان کو استعمال کیا جا رہا ہے

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+