روس کے پارلیمنٹ سیکرٹری نے الاسکا کا علاقہ امریکہ سے واپس لینے کی دھمکی دی ہے

روس کی پارلیمنٹ میں ایک بار پھر امریکہ کا نام لیا گیا ہے اور امریکہ کے اس حصے کا ذکر کیا گیا ہے جو کبھی روس میں شامل تھا روسی پارلیمنٹ کے سپیکر وولودِن  نے دھمکی دی ہے کہ اگر روس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا گیا تو پھر بات ملایکا تک پہنچ جاۓ گی ۔

 

روس اور امریکہ کی یہ سرد جنگ الاسکا تک پہنچ چکی ہے روس کے پارلیمنٹ سپیکر نے سنسنی خیز بیان دیتے ہوۓ امریکہ کو کھلم کھلا جنگ کی دھمکی دے دی ہے اور امریکہ کی زمین کو اپنے قبضے میں لینے کی دھمکی بھی دے دی ہے ۔

 

انھوں نے کہا ہے کہ ہمارے اچھے برتاؤ کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جاۓ انھوں نے کہا ہے کہ اگر روس کے ضبط کیے ہوۓ پیسوں سے یوکرین کو دوبارہ بسانے کی کوشش کی گئ تو پھر ہمیں بھی کچھ نہ کچھ واپس لینا ہو گا ہمارے پاس بھی جواب دینے کیلیے کافی کچھ ہے امریکہ کو الاسکا کو ہمیشہ دھیان میں رکھنا چاہیے ۔

 

الاسکا شمالی امریکہ کا علاقہ ہے یہ علاقہ بارہ مہینے برف سے ڈھکا رہتا ہے اور درجہ حرارت ہر وقت منفی ہی رہتا ہے روس کا بارڈر الاسکا سے 55 کلو میٹر کی دوری پر ہے یعنی دونوں ملکوں کیلیے یہ جگہ جنگی لحاظ سے بہت اہم ہے ۔

 

مارچ 30 ، 1867 ء تک الاسکا روس ہی کا حصہ تھا 70.2 لاکھ ڈالر میں امریکہ نے اسے روس سے خریدا تھا  اب یوکرین جنگ میں یوکرین کے کئ شہر برباد ہو چکے ہیں اس جنگ میں یوکرین کا تقریباً 750 بلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے کئ ملکوں نے یوکرین کو دوبارہ کھڑا کرنے کا اعلان کیا ہے کئ ملکوں نے یہ بھی راۓ دی ہے کہ روس کی ضبط کی گئ دولت سے یوکرین کو دوبارہ کھڑا کیا جاۓ اور روس کی ضبط کی گئ 300 بلین ڈالر کی کرنسی کو بھی شامل کیا جا نا چاہیے ۔

 

کینیڈا نے اس فیصلے پر مہر ثبت کر دی ہے جبکہ یورپی یونین میں بھی اس فیصلے پر غوروفکر کی جا رہی ہے حالانکہ اس راۓ کے حوالے سے امریکہ کھل کر سامنے نہیں آیا لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس بات پر سوچا جا رہا ہے ۔

 

یہی وجہ ہے کہ روس کے پارلیمنٹ سپیکر وولودِن نے واضح طور پر ان علاقوں کو واپس لینے کی بات کی ہے  ان کا کہنا ہےروس ان علاقوں کو واپس لینے کیلیے گولہ اور بارود بھی برسا سکتا ہے ۔

 

مزید پڑھیں: یوکرین کو جلد سے جلد گھٹنوں پر لانے کیلیے روس اور ایران کے درمیان اہم سمجھوتہ طے پایا
 

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+