روس نے ہائپرسونک میزائل بنا کر سمندر کی بادشاہت حاصل کر لی

یوکرین کے بعد روس کا اگلا مقصد امریکہ کی فوج کو ناکوں چنے چبوانا ہے اس لیے وہ ایک خطرناک ہائپرسونک میزائل بنانے میں لگا ہے  اور اگر روس یہ میزائل بنانے میں کامیاب ہو گیا تو روس کو سمندر کی بادشاہت مل جاۓ گی کیونکہ اگر یہ میزائل ایک بار چل جاۓ تو بڑے بڑے ایئر کرافٹس سمندر میں ڈبو دیتی ہے ۔

 

یہ بات تو واضح ہے کہ روس کی اس میزائل کا نشانہ امریکہ ہی ہونے والا ہے کیونکہ امریکہ کے پاس ایئر کرافٹس کا ایک زبردست بیڑا ہے اور یہ ایئر کرافٹس امریکہ کی طاقت ہیں امریکہ کی فوج کے پاس 12 ایئر کرافٹس ہیں جبکہ روس کے پاس صرف ایک ایئر کرافٹ ہے اسی طرح چین کے پاس تین ایئر کرافٹس ہیں لیکن امریکہ کے سامنے تو یہ کسی کھاتے میں نہیں آتے ۔

 

ان ایئر کرافٹس کی وجہ سے سمندر میں امریکہ کا مقابلہ کرنا تقریباً نا ممکن ہے لیکن روس نے ہائپرسونک میزائل بنا کر امریکہ کی اس طاقت کو ہی مٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے  ہائپرسونک کا مطلب ہوتا ہے آواز کی رفتار سے پانچ گنا سے بھی زیادہ تیز یعنی ہائپرسونک میزائلیں 6200 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتی ہیں اسکی تیز رفتاری کے ساتھ ساتھ اس کی دوسری خوبی یہ ہے کہ دنیا میں اس کا مقابلہ کرنے کیلیے کوئ ہتھیار موجود نہیں ہے ۔

 

امریکہ ہتھیاروں کی دوڑ میں کتنا ہی آگے نکل جاۓ لیکن ہائپرسونک میزائلوں کی دوڑ میں روس اور چین سے بہت پیچھے ہے اس کے پاس ابھی تک ایک بھی ہائپرسونک ہتھیار موجود نہیں ہے کہ وہ اپنے دشمن پر حملہ کر سکے دوسری طرف چین اور روس بے خوف ہو کر اپنی میزائلوں کے ٹیسٹ کر رہے ہیں ۔ 

 

مزید پڑھیں: جو بائڈن 80 سالہ پرانے رشتوں کو مضبوط کرنے کیلیے سعودی عرب پہنچے

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+