یوکرین کے بعد عراق کا علاقہ دوسرا یوکرین بن گیا ہے

روس یوکرین جنگ کے ساتھ ساتھ دنیا میں کئ اور جنگی مورچے کھل چکے ہیں مشرق وسطی میں بھی جنگ کی چنگاری بھڑک اٹھی ہے یہاں بات اسرائیل اور ایران کی نہیں بلکہ دو مسلمان ملکوں کی ہو رہی ہے جن میں عراق اور ترکیہ شامل ہیں عراق کے دارالحکومت بغداد میں 21 جولائ 2022ء کو وہی حالات بنے ہوۓ ہیں جیسے 24 فروری کو یوکرین میں تھے ۔

 

ان دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا اعلان بھی بارود اور گولہ باری سے ہوا ہے عراق کے صدر براہم صالح ، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر قاسم الاراضی ، عراقی فوج کے چیف کمانڈر جنرل شہاب اور دوسرے وزراء کی بات چیت ہر آدھے گھنٹے بعد ہو رہی ہے ۔

 

اب سوال یہ ہے کہ عراق میں ان حالات کی وجہ کیا ہے کیا امریکہ سے عداوت کی وجہ سے دشمنوں نے عراق کو نشانہ بنایا ہے یا عراق کے دشمنوں کو عراق سے خطرہ لاحق ہے ان سب سوالوں کا جواب یہ ہے کہ  امریکہ سے عداوت کی وجہ سے ترکیہ نے عراق کو چھلنی کرنے کیلیے عراق پر بارود کی بارش کر دی ۔

 

کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ مشرق وسطی میں امریکہ کے مدد گاروں کے خلاف کاروائ شروع ہو گئ ہے کیونکہ ترکیہ نے اپنے پڑوسی عراق کے علاقے کردستان پر سیدھا حملہ کیا ہے اس واقعے پر بغداد سے لے کر وائٹ ہاؤس تک سنسنی پھیل گئ کیونکہ اس وقت عراق میں امریکہ کے بارہ فوجی اڈے اب بھی کام کر رہے ہیں ۔

 

اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ کو عراق سے نکالنے کیلیے یہ کاروائ کی گئ ہو عراق پر حملے کی دوسری وجہ کرد بھی ہو سکتے ہیں  کیونکہ ترکیہ اور کردوں کی دشمنی سو سال سے بھی زیادہ پرانی ہے اور کرد لوگ امریکہ کے اچھے دوست مانے جاتے ہیں پہلی جنگ عظیم کے بعد کرد بکھر گۓ اور کافی عرصے بعد 2005 ء میں عراق کے ایک حصے میں کرد آباد ہو گۓ ترکیہ کردوں کو مٹانے کیلیے کردوں پر حملے کرتا رہتا ہے 

 

 

 

 

 

 

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+