امریکہ اور یورپ یوکرین کی جنگ کو تیسری عالمی جنگ بنا رہے ہیں

روس یوکرین جنگ کے ختم ہونے کے ابھی کوئ آثار نظر نہیں آرہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ جنگ تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر جاۓ کیونکہ یوکرین کو لگاتار یورپی ملکوں کی مدد مل رہی ہے اور یوکرین کی فوج کو دوسرے ملکوں میں ٹریننگ دی جا رہی ہے ۔

 

برطانیہ میں لگاتار یوکرین کے فوجیوں کو جنگی ٹریننگ دی جا رہی ہے اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم بارس جانسن یہ واضح کہہ چکے ہیں کہ برطانیہ میں کوئ بھی وزیر اعظم بن جاۓ یوکرین کو مدد اسی طرح جاری رہے گی لیکن لز ٹرس اس حق میں نہیں ہیں ۔

 

اس جنگ کے عالمی جنگ کی صورت اختیار کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ برطانیہ اور امریکہ اب مل کر یوکرین کو لمبی دوری والے ہتھیار دے رہے ہیں امریکہ نے یوکرین کو ہمارس میزائل کے ساتھ ساتھ جنگی طیارے دینے کا اعلان بھی کیا ہے حالانکہ روس یہ کہہ چکا ہے کہ اگر یوکرین کو دوسرے ملک ہتھیار دیتے رہیں گے تو جنگ کا دائرہ یوکرین سے آگے نکل جاۓ گا ۔

 

اور عالمی جنگ ہونے کی ایک اور وجہ  دوسرے ملکوں کی یوکرین کو فوجی مدد اور اس جنگ میں ان کی براہِ راست دخل اندازی ہے روس نے آج ہی یہ دعو'ی کیا ہے کہ اس جنگ میں اب تک 40 کرایے کے فوجی مارے جا چکے ہیں ۔

 

آج روس میں بھی چینی فوج جنگی تیاری کیلیے پہنچ چکی ہے اور مغربی ملکوں کے خلاف روس اور چین ایک ساتھ دکھائ دینے لگے ہیں روس نے اپنی سب سے بڑی نیو کلیئر سب مرین بلگرروڈ بھی لاؤنچ کر دی ہے یعنی سمندر کے ذریعے جنگ کا دائرہ بڑھانے کی پوری کوشش ہو رہی ہے اور ویگنر گروپ بھی لوگوں کو روس کی مدد کیلیے اکسا رہا ہے ۔

 

جس وقت دنیا کی توجہ اڑیسہ بندرگاہ کے سلسلے میں روس یوکرین سمجھوتے کی طرف تھی اس وقت پیوٹن نے ایک بار پھر یورپی ملکوں کو چونکا دیا جب دنیا کے ایک کونے سے دنیا کی  سب سے بڑی سب مرین بلگروڈ کی تصویریں سامنے آئیں دنیا کی یہ سب سے بڑی سب مرین ہے جس کے آگے امریکہ کی سب مرینز سب ہیچ ہیں ۔

 

مزید پڑھیں: ولادیمیر پیوٹن کے ایران دورے کا مقصد سامنے آ گیا

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+