ولادیمیر پیوٹن نے جنگ جیتنے کے لیے کورونا وائرس سے کئ گنا خطرناک وائرس کے استعمال کا فیصلہ کر لیا

      وسیم حسن 

 

روس یوکرین جنگ جو پچھلے دس مہینے سے جاری ہے لیکن ابھی ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی نہ تو پیوٹن پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں اور نہ ہی زیلینسکی ہار ماننے کو تیار ہے روس نے  یہ واضح کر دیا ہے  کہ وہ جنگ جیتنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ 

 

    پچھلے چند روز سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں  کہ ولادیمیر پیوٹن نے  ڈونیسک سے اپنی فوج پیچھے ہٹا لی ہے تو ان کی اس کاروائی کے پیچھے کوئی بڑا منصوبہ  ہے  وہ آنے والے دنوں میں کوئی خطرناک کاروائی کر سکتے ہیں اور ایسا ہی ہوا۔  

 

    دراصل آج سے چار لاکھ سال پہلے  دنیا میں  لمبے  لمبے دانتوں واالے  ہاتھی پائے جاتے تھے جن کا وجود  آج کے دور میں ناپید ہو چکا ہے  کیونکہ اس زمانے میں ایک خطرناک وائرس  نے ان ہاتھیوں،گینڈوں اور کئی بڑے جانوروں کی نسلیں ہی ختم کر دیں ۔

 

     وہ اایک ایسا وائرس تھا  جو کورونا  سے کئی گنا زیادہ خطرناک تھا اس وائرس سے ہلاک ہونے والے جانوروں کے آثار اب بھی روس  کے شہر یاکوٹیا میں پائے جاتے ہیں اس شہر کا درجہ حرارت منفی 55 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم ہے برف میں دبنے سے ابھی تک ان آثار قدیمہ کا وجود  برقرار ہے ۔ 

 

    روس نے سائبیریا میں اپنی بائیو ویپن لیبارٹری میں ان مردہ جانوروں کے جسم میں  موجود اس وائرس کو زندہ کرنا شروع کر دیا ہے  اگر وائرس زندہ ہو گیا تو پوری دنیا کے لیے بہت خطرناک ہو گا اور روس بغیر جنگ لڑے نہ صرف یوکرین  بلکہ دنیا کے کئی ملکوں سے انسانوں سمیت تمام جانداروں کا ووجود ہی مٹا دے گا  ۔

 

 

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+