بحیرہ بالٹک پر روس اور امریکہ ایک بار پھر آمنے سامنے

جنگی جہاز

  نیوزٹوڈے: روس اور امریکہ ایک مرتبہ پھر آسمان پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگۓ روس نے دعوٰی کیا ہے کہ امریکہ نے اسے اکسانے والی کاروائی کی ہے کیونکہ اس کے دو بمبرزبحیرہ بالٹک میں روس کی سرحد تک جا پہنچے جیسے ہی امریکہ کے ان طیاروں نے بحیرہ بالٹک میں روس کی سرحد عبور کی تو روس نے اپنا سکھوئی27 جنگی طیارہ ان دونوں کے پیچھے لگا دیا روس کے اس سکھوئی 27 جہاز نے امریکہ کے ان دونوں جہازوں کا پیچھا اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ انہیں اپنے علاقے سے نکال نہیں دیا روس کا ایک جہاز امریکہ کے دو جہازوں پر بھاری پڑ گیا اور امریکہ کے دونوں جہاز الٹے پاؤں واپس مڑ گۓ ۔

    بعد میں امریکہ نے اپنے جہازوں کی اڑان کو محض بدستور مشق قرار دیتے ہوۓ روس کے الزامات کو خارج کرنے کی کوشش کی ہے امریکہ نے کہا ہے کہ اس کے جنگی جہاز یورپ میں ہونے والی جنگی مشقوں میں حصہ لے رہے تھے لیکن بحیرہ بالٹک میں جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں سویڈن، فن لینڈ، لاطویا، لتھوانیا، پولینڈ، جرمنی، اور ڈنمارک جیسے نیٹو ملک موجود ہیں جو روس کے بہت قریب ہیں اور روس کی نظر ان پر ہر وقت رہتی ہے  اسی لیے وہاں سے امریکہ کے جہازوں نے جیسے ہی روس کا رخ کیا تو روس نے فورًا ایکشن لے لیا ۔

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+