امریکہ کا تائیوان کی سرحد پر پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم تعینات کرنے کا فیصلہ

نیوز ٹوڈے:ا مریکہ جو کہ اس وقت تین تین مورچوں پر جنگ لڑ رہا ہے روس یوکرین جنگ میں یوکرین امریکہ کی مدد اور اس کے ہتھیاروں کی وجہ ہی سے ہی پچھلے نو ماہ سےروس جیسے بڑے اور جدید ہتھیاروں سے لیس ملک کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے ۔

یوکرین کے ساتھ ساتھ امریکہ جنوبی کوریا اور تائیوان کے تحفظ کا ذمہ دار بھی ہے امریکہ نے ان تینوں ملکوں کو ہتھیار دے کر اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال کرنے کا کامیاب منصوبہ بنایا ہوا ہے ۔

امریکہ نے ان تینوں ملکوں کو ہتھیار اور لڑاکا طیارے تو فراہم کیے ہیں لیکن پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم کسی ملک کو نہیں دیا یوکرین کافی عرصے سے امریکہ سے پیٹریاٹ سسٹم کی مانگ کر رہا ہے لیکن امریکہ نے روس کی دھمکی کی وجہ سے یوکرین کو یہ سسٹم دینے کی حامی نہیں بھری ۔

اب دعوٰی یہ کیا جا رہا ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے خطرے کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے تائیوان کو پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم دینے کی حامی بھر لی ہے اور وہ بہت جلد تائیوان کی سرحد پر اپنا یہ طاقتور سسٹم تعینات کرنے والا ہے یہ ایسا مضبوط ڈیفنس سسٹم ہے جوکسی بھی ہتھیار کو ہوا ہی میں ناکام کر دینے کی خاصیت رکھتا ہے ۔

چین جیسے طاقتور ملک کا مقابلہ کرنے کے لیے تائیوان کو اپنی عسکری طاقت بڑھانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ چینی میزائلوں ،ڈرونزاور ایئرکرافٹ حملوں کے سامنے تائیوان کا ٹھہرنا نا ممکن ہے امریکہ کا یہ پیٹریاٹ سسٹم ایک ہی وار میں سو ہتھیاروں کو نشانہ بنا سکتا ہے اس کی پہنچ بھی سو کلو میٹر تک ہے امریکہ 300 کروڑ ڈالر میں تائیوان کو 100 پیٹریاٹ سسٹم بیچے گا ۔

امریکہ کے اس نئے فیصلے کے بعد چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ جائے گی کیونکہ چین بار بار امریکہ کو تائیوان کے معاملے سے دور رہنے کی دھمکی دے چکا ہے اور اب پیٹریاٹ میزائل سسٹم دینے کا مطلب چین کوللکارنا ہے۔

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+