ولادیمیر پیوٹن کے نۓ منصوبے نے امریکہ اور زیلینسکی کی نیندیں اڑا دیں

      وسیم حسن 

 

    باخموت سے لے کر لوہانسک تک اور خیر سون سے لے کر ڈونیسک تک یوکرین کے کئی شہروں میں اس وقت زندگی اور موت کی جنگ چھڑی ہوئی ہے امریکہ اور یورپ اس جنگ میں پیسہ پانی کی طرح بہا بہا کر تنگ آ چکے ہیں ۔

 

    زیلینسکی اور اس کی فوج اپنی زمین کا ایک ایک ٹکڑا واپس پانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں  خیر  سون کے علاقے میں اس وقت  بھیانک جنگ لڑی جا رہی ہے خیر سون کا علاقہ نیپرو ندی کے دونوں اطراف میں واقع ہے ایک طرف روس کا قبضہ ہے اور دوسری طرف یوکرین کا ۔ 

 

    کریمیا کے ساتھ خیر سون کا جو علاقہ ہے اس پر روس کا قبضہ ہے جنگ شروع ہوتے ہی روس نے خیر سون کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا لیکن نومبر کے مہینے میں خیر سون کا علاقہ جو یوکرین کی طرف تھا روس نے اسے چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا اور وہاں سے اپنی فوج ہٹا لی تھی لیکن خیر سون  میں یوکرینی فوج کے  ٹھکانوں پر روس کے حملے بدستور جاری ہیں ۔ 

 

    خیر سون کا علاقہ روس کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ خیر سون کے راستے مائیکو لیو پر حملہ ممکن ہو سکتا ہے جنگ کے پجھلے دس مہینوں میں ولادیمیر پیوٹن مسلسل یہی بیان دیتے رہے کہ وہ جنگ جیتے بغیر یوکرین سے اپنی فوج واپس نہیں بلائیں گے ۔ 

 

    لیکن اب پیوٹن کے بدلتے رویے نے امریکہ اور زیلینسکی کی نیندیں اڑا دی ہیں  پیوٹن نے بیان دیا ہے کہ وہ یوکرین کے مسئلے کو  بات چیت سے حل کرنے کے لیے تیار ہیں اگر پیوٹن کی یہ درخواست منظور کر لی گئ تو زیلینسکی کو ڈونیسک ، لوہانسک ، زیپورزیا اور خیر سون جیسے اہم علاقوں سے ہاتھ دھونے پڑ جائیں گے اس طرح یوکرین کا ایک بڑا حصہ روس کے قبضے میں آ جائے گا ۔ 

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+