ایران کی آرمینیا کی حمایت میں آذر بائیجان کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی دھمکی

      وسیم حسن 

 

    ایران اور آذر بائیجان دونوں مسلمان ملک ہیں اور ایک دوسرے کے پڑوسی بھی ہیں دونوں ملکوں میں اہلِ تشیہ مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے آپس میں تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے ۔ 

 

    دونوں ملکوں کی کشیدگی کی وجہ اسرائیل ہے جو ایران کو ایک آنکھ نہیں بھاتا لیکن آذر بائیجان کا قریبی دوست ہے آذر بائیجان اپنے ٪80 ہتھیار اسرائیل سے خریدتا ہے دونوں کے درمیان تیل کا بھی رشتہ ہے ۔ 

 

    دونوں ملکوں کے درمیان  تناؤ کی دوسری وجہ آذر بائیجان او آرمینیا کی لڑائی ہے جس میں ایران آرمینیا کے ساتھ کھڑا ہے ایران نے چند روز پہلے  آذر بائیجان کو یہ دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے آرمینیا  کی ایک فٹ زمین پر بھی قبضہ کیا توایران اس کو نہیں چھوڑے گا ۔ 

 

    اب ایران اور آذر بائیجان کی د شمنی ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے  کہ ایران کے فوجی افسران نے واضح طور پر آذر بائیجان کو ڈرانا شروع کردیا ہے ایرانی فوج کے ایک جنرل علی رضا نے کہا ہے کہ آذر بائیجان کو یوکرین کی حالت دیکھ کر سنبھل جانا چاہیے کہ یورپ اور امریکہ سے بچ کے رہنے میں ہی بھلائی ہے ۔ 

 

     ایرانی جنرل نے کہا ہے کہ آذربائیجان  کو عراق کے صدر صدام حسین جیسی غلطی نہیں دہرانی چا ہیے جو انہوں نے 22 سال پہلے کی تھی جب 1980 ء میں ایران پر حملہ کیا تھا  اس وقت  ایران کی عسکری طاقت آج کی طرح اتنی مضبوط نہیں تھی  لیکن ایران نے پھر بھی عراق  کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا  عراق آٹھ سال تک ایران کو نہ ہراپایا اور آخر آٹھ سال بعد جنگ روکنا پڑی ۔

 

    اگر اس وقت عراق کمزور ایران کو نہ ہرا پایا تو آذر بائیجان آج کے طاقتور اور مضبوط  ایران پر حملے کا سوچے بھی نہیں  کیونکہ اگر اس نے ایسی غلطی کی تو ایران اس کا نام و نشان بھی صفحہِ ہستی سے مٹا دے گا ۔

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+