چین اور بنگلہ دیش کے معاہدوں سے جلتے دشمن ملکوں کی چین پر الزام تراشیاں

بنگلہ دیش معاشی

نیوز ٹوڈے: بنگلہ دیش کی معاشی حالت خستہ اور کمزور ہو چکی ہے اور وہ بھی اب تیزی سے معاشی بد حالی کی طرف بڑھنے لگا ہے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور قومی خزانہ بھی تیزی سے خالی ہو رہا ہے ایسے وقت میں چین نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے بھاری قرض دینے کے ساتھ ساتھ اس کی 27 کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے کا سمجھوتہ بھی کیا ہے اور چین نے بہت جلد بنگلہ دیش کی بڑی بندر گاہ مانگلا پورٹ کو بھی استعمال میں لانے کا معاہدہ کیا ہے چین نے بنگلہ دیش کو چالیس کروڑ ڈالر کا قرض دیا ہے جس پر چین کے دشمن ملک اس پر الزام لگا رہے ہیں کہ پاکستان اور سری لنکا کو بھاریی قرض میں پھنسانے کے بعداب چین کی نظریں بنگلہ دیش پر جم ہوئی ہیں ۔

کیونکہ اس سے پہلے چین نے پاکستان کی گوادر بندر گاہ اور سری لنکا کی ہمن سوڈا بندر گاہ کا مکمل کنٹرول بھی اسی طرح لیا تھا پہلے چین نے ان ملکوں کو بھاری قرض دیا تھا اور پھر ان کی بڑی بندر گاہوں پر ہی قبضہ کر لیا حالانکہ اس الزام کی تصدیق نہ تو پاکستان اور سری لنکا کی طرف سے کی گئی ہے اور نہ ہی بنگلہ دیش نے اس قسم کے کسی اندیشے کا ذکر کیا ہے یہ صرف چین کے دشمن ملکوں کا چین کو بدنام کرنے کے لیے پراپیگنڈہ ہے ۔

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+