تیسری جنگ عظیم کی تیاریاں کلینگراڈ اور کریمیا کی سرحدوں پر شروع

ولادیمیر پیوٹن

ولادیمیر پیوٹن کے یوکرین دورے کے بعد نیو کلیئر حملے کے آثار بڑھنے لگے ہیں لیکن یہ حملہ یوکرین پر نہیں بلکہ نیٹو کے ایک ملک پولینڈ پر ہونے والا ہے جس کی دھمکی وہ اس دورے کے دوران دے چکے ہیں پیوٹن نے کہا ہے کہ اگر کریمیا پر حملہ ہوا تو کئی نیٹو ملک برباد ہوں گے اور ان میں سے پہلا نمبر پولینڈ کا ہوگا کیونکہ بحیرہ اسود میں ایم کیو 9 ڈرون کے تباہ ہونے پر امریکہ روس پر بھڑکا ہوا ہے اور بائیڈن نے نیٹو ملکوں کے ساتھ مل کر روس کو گھیرنے کا اعلان کیا ہے اور نیٹو کے ملک پولینڈ نے کلینگراڈ سے ملحق اپنی سر حد پر ہائی مارس سسٹم تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے کلینگرراڈ روس کا وہ علاقہ ہے جس کی سرحد نیٹو سے ملتی ہے ۔

اس علاقے کو روس کا مرکزی دروازہ کہا جاتا ہے اگر یہ کہا جائے کہ کلینگراڈ اور کریمیا روس کے دائیں اور بائیں بازو ہیں تو بے جا نہ ہو گا کلینگراڈ کی سرحد نیٹو سے ملتی ہے تو کریمیا کی سرحد یوکرین سے ملتی ہے اور اس وقت ان دونوں علاقوں میں بارود سلگ رہا ہے پولینڈ کے ہائی مارس کی تعیناتی کے اعلان کے بعد روس نے اپنی کئی خطرناک میزائلیں اس سرحد پر تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ہے یہ جنگ اب امریکہ اور روس کی کھلی جنگ ہے ایک طرف امریکہ یوکرین کو لمبی دوری والے ہتھیار دے کر کریمیا پر حملے کی تیاری کر رہا ہے تو دوسری طرف رومانیہ اور پولینڈ کے ذریعے کلینگراڈ کے راستے روس کو گھیرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ولادیمیر پیوٹن نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے ایسا کیا تو تو روس کو بھی نیوکلیئر حملے سے کوئی روک نہیں سکے گا ۔

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+