ایران ، سعودی عرب کی دوستی سے شروع ہونے والا مسلم ممالک کا اتحاد امریکہ کو کھٹکنے لگا

ایران اور سعودی عرب دونوں مسلم ملکوں نے حال ہی میں اپنے سفارتی تعلقات بحال کیے ہیں اور ایک دوسرے کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی طرف پوری دنیا کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں ایران اور سعودی عرب کی یہ دوستی پوری مسلم امت کے لیے خوشی کی خبر ہے سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو سعودی عرب کے سرکاری دورے کی دعوت دی ہے ابراہیم رئیسی نے اگلے مہینے ریاض کا دورہ کرنے کی حامی بھر لی ہے 24 سال بعد یہ کسی بھی ایرانی صدر کا سعودی عرب کا دورہ ہو گا ایران کے وزیر خارجہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے ۔

کہ ایران اور مصر کے درمیان بہت جلد کئی سمجھوتے ہونے والے ہیں ایک طویل مدت کے بعد خلیج عمان میں روس ، چین ، ایران ، متحدہ عرب اور پاکستان مل کر سمندری جنگی مشقیں کر رہے ہیں ان جنگی مشقوں کو نیول سیکیورٹی بیلٹ کمبائنڈ وار 2023 کا نام دیا گیا ہے امریکہ نے ان جنگی مشقوں کے حوالے سے بیان دیا ہے کہ ہمیں ان جنگی مشقوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ روس اور چین اس طرح کی مشقیں کرتے رہتے ہیں لیکن ان ملکوں کی ایک ایک حرکت پر ہماری نظر ہے یعنی امریکہ نے اپنے بیان میں جس خطرے کو جھٹلایا ہے آخر میں اسی کا اظہار کر دیا ہے ۔

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+