ایران نے کیا اعلان اسرائیل کو بھگتنا پڑے گی اس حرکت کی سزا

 

 

    اب تک جس جنگ کے خطرات نظر آرہے تھے دو ملک اس کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور وہ دو ملک ایران اور اسرائیل ہیں اور شام کافی عرصے سے ان دونوں ملکوں کی دشمنی کا مرکز بنا ہوا ہے یہ دشمنی اب جنگ کی دہلیز تک پہنچ چکی ہے پچھلی رات اسرائیل نے شام میں ایران کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے جس سے ایران کے آئی آر جی سی یعنی کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایک راہنما ہلاک ہو گۓ ہیں اس واقعے کے بعد ایران اسرائیل پر بھڑک اٹھا ہے اور اس نے اسرائیل کو ختم کرنے کی قسم کھا لی ہے ایران اور شام ایک دوسرے کے دوست ملک ہیں اور شام اسرائیل کا پڑوسی ملک بھی ہے اسرائیل شام اور ایران دونوں کا دشمن  ہے شام کو اسرائیل سے بچانے کیلیے ایران اس کی بھر پور مدد کرتا رہتا ہے ایران کے ہزاروں لڑاکے شام میں تعینات ہیں جو ایران کے تحفظ کیلیے کام کر رہے ہیں ۔

 

    اسرائیل کو یہی بات چبھتی رہتی ہے اور وہ ایران کو شام سے بھگانے کیلیے حملے کرتا رہتا ہے ایرانی فوج کی شام میں موجودگی اسرائیل کیلیے بڑی پریشانی کا سبب ہے کیونکہ ایران اس کا بہت بڑا دشمن ہے اور شام کی صورت میں اس کے سر پر جو تلوار لٹک رہی  ہے وہ اس تلوار کو ہٹانا چاہتا ہے اس مرتبہ اسرائیل نے آدھی رات کو شام کے اسرائیلی قبضے والی گولان کی پہاڑیوں سے میزائل حملے کیے ان میزائلوں میں سے ایک میزائل نے شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب ایران کے فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس میں ایران کے ایک فوجی افسر شہید ہو گۓ اسرائیل کی اس حرکت پر ایران نے اعلان کیا ہے کہ ان کے افسر کی موت کا ذمہ دار اسرائیل ہے اور وہ اسرائیل سے ہر قیمت پر اس کا حساب برابر کر کے رہے گا ۔

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+