روس ، یوکرین جنگ میں سب سے زیادہ فائدہ بھارت اٹھا رہا ہے

دنیا میں چل  رہی افراتفری اور جنگ کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت نے اٹھایا ہے بھارت جو ایک طرف تو روس کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے اور روس نے جو امریکہ کے جی 7 کے مقابلے میں جی 8 بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس میں شامل ہو رہا ہے تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ کواڈ میٹنگ میں بھی شامل ہوا ہے ۔

 

بھارت نے جنگ کے شروع میں ہی روس سے سستے داموں کچا تیل خریدنے کا معاہدہ کر لیا تھا لیکن بھارت صرف تیل تک ہی نہیں رکا بلکہ اس سے بھی دس قدم آگے نکل گیا ہے بھارت نے تیل کے ساتھ ساتھ روس سے اتنا کوئلہ بھی خرید لیا ہے جتنا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔

 

بھارت روس سے عموماً جتنا کوئلہ خریدتا ہے اس سے 6 گنا زیادہ کوئلہ تو بھارت نے پچھلے 20 دنوں میں ہی خرید لیا ہے آنے والے دنوں میں بھارت کو اس کا خوب فائدہ ملے گا اس سے پہلے جب بھارت نے بہت بڑی مقدار میں روس سے کچا تیل خریدا تھا تو اس کا فائدہ عام لوگوں کو بھی پہنچایا تھا اور ڈیزل اور پٹرول  کی قیمتوں میں بہت کمی ہو گئ تھی اب یہ کہا جارہا ہے کہ اس کوئلے سے بھارت کے کئ اہم سیکٹروں کو فائدہ پہنچے گا ۔

 

کئ رپوٹس میں یہ کہا جا رہا ہے کہ روس کی طرف سے ملنے والی رعایت سے بھارت خوب فائدہ اٹھا رہا ہے بھارت اور روس کے درمیان کوئلے کا یہ لین دین بڑھتا جا رہا ہے بھارت روس سے کچے تیل اور کوئلے کے علاوہ بھاری مقدار میں کھادیں بھی خرید رہا ہے ۔ 

 

بھارت نے اپنے فائدے کی خاطر امریکہ کی اکڑ کو نظر انداز کر دیا بھارت نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ یورپی ممالک کی پابندیوں کی وجہ سے براہِ راست سسٹم کے تحت تجارت کا طریقہ اپنائیں گے ۔

 

بھارت روس سے جو کھادیں خرید رہا ہے اس کے بدلے وہ روس کو اتنی ہی قیمت کی چاۓ اور آٹو پارٹس دے رہا ہے اس طرح روس کو بھی یورپی یونین کے ملکوں کی پابندیوں سے کچھ فرق نہیں پڑ رہا ۔

 

مزید پڑھیں: چین نے تائوان کا سمندری راستہ روک کر دنیا کا تجارتی راستہ بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے


 

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+