کیا پیوٹن دبائیں گے ایٹم بم کا بٹن

25 April,2022

روس ، یوکرین جنگ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر جاپان کی طرف سے یہ بیان ہے کہ پیوٹن کسی بھی وقت ایٹم بم کا بٹن دبا سکتے ہیں اور نیو کلئیر ہتھیاروں کا استعمال کر سکتے ہیں ۔ حالانکہ جاپان خود یہ سب کچھ جھیل چکا ہے لیکن موجودہ صورتحال تیسری عالمی جنگ کی واضح تصویر نظر آ رہی ہے ۔ کیونکہ ان حالات میں بائیڈن کا پولینڈ کا دورہ سمجھ سے بالاتر ہے  ۔ دشمنی کی آگ میں سلگتے سپر پاور امریکہ نے پولینڈ کے دروازے پر دستک کیوں دی  ؟

 

اور دوسری وجہ جو تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے وہ ہے زیلینسکی کا کوئ رد عمل ظاہر نہ کرنا ۔ زیلینسکی نہ تو روس کے آگے ہتھیار ڈال رہا ہے اور نہ ہی کوئ بیچ کی راہ نکال رہا ہے امریکہ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا ہوا ہے زیلینسکی ادھر نیٹو نے روس کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کا ساتھ دیا جا رہا ہے انھیں ہتھیار اور مدد فراہم کی جا رہی ہے حالانکہ روس بار بار یہ باور کرا چکا ہے کہ اگر یورپ نے یوکرین کی مدد کی تو انجام کے ذمہ دار بھی خود ہی ہوں گے اس طرح یوکرین کی تباہی کے بعد روس کا اگلا ٹارگٹ نیٹو ممبرز ہو سکتے ہیں ۔

 

اور یوکرین کو تباہی سے نکالنے کیلۓ امریکہ نیا میدان بھی بنا سکتا ہے  ۔ اٹلانٹک سمندر میں امریکہ اور فرانس نے نے ۔وی فورسز اور خطرناک ہتھیار تعینات کۓ ہیں جس کے جواب میں روس بھی سمندر میں اتر چکا ہے ۔ اگر سمندر میں روس اور امریکہ آمنے سامنے ٹکراۓ تو کیا ہونے والا ہے  ۔ دوسری طرف پولینڈ کے صدر سے بائڈن کی ملاقات پیوٹن کی ناراضگی کا سبب بنی ہے  ۔

 

بائڈن  نے یہ اعلان کیا ہے کہ امریکہ پولینڈ میں پلانٹ لگاۓ گا  ۔ اور بائڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے ۔ اور جنگ میں یوکرین کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے ۔ امریکہ کا کہنا  ہے کہ امریکہ روس کے ساتھ اس وقت تک لڑتا رہے گا جب تک کہ آخری یوکرینی زندہ ہے ۔ امریکہ کے بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امریکہ یوکرین کی پشت پناہی کر رہا ہے  ۔

 

اور اگر امریکہ نے اسی طرح یوکرین کی مدد جاری رکھی تو یہ جنگ گھمبیر صورتحال اختیار کر جاۓ گی  ۔ کیونکہ یوکرین پہلے ہی روس پر فاسفورس اور امونئیم ہتھیاروں کا استعمال کر چکا ہے اب اس کے جواب میں پیوٹن کا ایٹم بم تیار ہے جس کی رینج میں امریکہ ، جرمنی ،کینیڈا ، برطانیہ ، فرانس اور تمام یورپی ممالک ہیں ۔  

 

مزید پڑھیں: ولادی میر پیوٹن کی زندگی کے اہم حقائق
 

Share This Article