روس کی طرف سے امریکہ کو تین مورچوں پر شکست

24 April,2022

دوس دنیا میں گیس کا بادشاہ ہے ۔ اس طرح امریکہ سمیت تمام یورپ گیس کیلۓ  روس کا مرہون منت ہے ۔ پیوٹن کے یکم اپریل 2022 ء کے فیصلے نے نیٹو میں پھوٹ ڈال دی نیٹو ممالک کی آپس میں نا اتفاقی شروع ہو چکی ہے ۔ کیونکہ ہنگری نے فوراَ ہی روس کے منصوبے سے اتفاق کر لیا اور اپنے بینک میں روسی اکاؤنٹ کھولنے کیلۓ تیار ہے ۔ اس طرح ایک تو نیٹو کی نا اتفاقی امریکہ کو کمزور کر دے گی اور دوسرا اس طرح ڈالر کی اہمیت انٹرنیشنل مارکیٹ میں کم ہو جاۓ گی ۔

 

دوسرا اکھاڑہ جو کہ روس نے امریکہ کی سپر پاور کو ختم کرنے کیلۓ تیار کیا ہے وہ ہے یوکرین کی تباہی ۔ کیونکہ روس کبھی بھی یوکرین کو نیٹو میں شامل نہ ہونے دے گا اور اگر زیلینسکی نے روس کے سامنے سرنڈر نہ کیا تو روس اس کو تباہ کر دے گا ۔ اور امریکہ کیلۓ تیسرا مورچہ چین نے تیار کر دیا  ۔ چین نے سعودی عرب کے ساتھ تیل کی تجارت کیلۓ ین میں ادائیگی کا سمجھوتہ کر لیا ۔ چین دنیا میں کچے تیل کی پیداوار کا سب سے بڑا ملک ہے ۔ سعودی عرب ٪ 77 تیل ایشیا میں بیچتا ہے اور سعودی عرب میں تیل کی کل پیداوار  کا ٪ 26 تیل چین خریدتا ہے اس کے مقابلے میں سعودی عرب صرف 5 لاکھ بیرل تیل روزانہ امریکہ کو بیچتا ہے

 

یعنی سعودی عرب جس نے صرف ڈالر میں تیل بیچنے کا سمجھوتہ کیا تھا اب اس کیلۓ چین زیادہ اہم ہے نہ کہ امریکہ ۔ اب آئل مارکیٹ کا ڈھانچہ بدل چکا ہے ۔ روس اور چین مل کر امریکہ جیسی دنیا کی سپر پاور کو زمین بوس کر دیں گے ۔  روس نے جو فیصلہ کیا ہے یہ کوئ پہلی بار نہیں ہوا اس سے پہلے بھی عراق کے صدر صدام حسین نے بھی امریکہ سے یورو میں تیل بیچنے کی بات کی تھی

 

جو امریکہ کو پسند نہ آئ تو امریکہ نے بے بنیاد الزامات کی بنا پر عراق پر حملہ کر دیا تھا اور 2006 ء میں صدام حسین کو پھانسی دے دی گئ ۔ پھر لیبیا کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا ۔ امریکہ نے ان ممالک کو ہی کچل دیا جو اس کے سامنے کھڑے ہوۓ ۔ لیکن اب امریکہ کے سامنے کوئ کمزور ملک نہیں بلکہ روس کھڑا ہے ۔ پیوٹن کے اس منصوبے نے کئ نیٹو ممالک کو امریکہ کے خلاف کھڑا کر دیا ھے ۔ ایران جیسے ملک بھی روس کے ساتھ ہیں  یعنی اس جنگ کے بعد روس دنیا کے بادشاہ اور ایک سپر پاور کے طور پر دنیا کے سامنے آۓ گا ۔    

 

مزید پڑھیں: روس یوکرین جنگ کے بعد اب امریکہ اور یورپ کےلیۓ روس کی طرف سے ایک اور جھٹکا
 

Share This Article