ایرانی ڈرونز نے ایک بار پھر یوکرین جنگ کا پانسہ پلٹ دیا ہے

22 September,2022

روس یوکرین جنگ میں ایران سے ملے ڈرونز یوکرین کیلیے سر درد بنے ہوۓ ہیں روسی فوج یوکرین کے فوجی ٹھکانوں کو چن چن کر نشانہ بنا رہی ہے اب اس ڈرون وار میں ایک مرتبہ پھر روسی فوج نے یوکرین کے کئ علاقوں میں اپنے قدم جما لیے ہیں ۔

 

ایرانی ڈرونز اب اس جنگ میں روس کی طاقت بنے ہوۓ ہیں ایک یوکرینی کمانڈر کے مطابق خار کیو میں یوکرین کے ہتھیار ڈپو پر ایرانی ڈرونز منڈلا رہے ہیں روسی فوج نے ان ڈرونز کے ذریعے یوکرین کے کئ آرٹلری سسٹمز تباہ کر دیے ہیں ۔

 

ولادی میر پیوٹن نے نہ صرف یوکرین جنگ کا پانسہ پلٹ دیا ہے بلکہ انھوں نے امریکہ اور یورپ کو بھی نیو کلیئر حملے کی دھمکی بھی دے دی ہے پیوٹن نے کہا ہے کہ ان کی اس دھمکی کو نظر انداز نہ کیا جاۓ یہ کوئ زبانی بات چیت نہیں ہے ۔

 

یورپی ملکوں نے روس کو کمزور کرنے کیلیے اپنی حدیں پار کر دیں اور حد سے بڑھ کر روس سے دشمنی نبھاتے ہوۓ یوکرین کا ساتھ دیا ہے پیوٹن نے کہا ہے کہ اگر روس کو کوئ خطرہ درپیش آیا تو نیو کلیئر حملہ بھی یقینی ہو جاۓ گا ۔

 

پیوٹن نے یہ بیان بھی دیا ہے کہ اگر یورپی ملک یہ سمجھ رہے ہیں کہ روس انھیں کوئ جوابی کاروائ نہیں کرے گا تو یہ ملک غلط سوچ رہے ہیں کیونکہ روس ایسے جدید ہتھیاروں سے حملہ کرے گا جس کے متعلق ان ملکوں نے سوچا بھی نہیں ہو گا پیوٹن کے اس بیان سے امریکہ بھی دنگ رہ گیا ۔

 

پیوٹن کا یہ انداز ہے کہ وہ جو فیصلہ کر لیتے ہیں اس سے پیچھے نہیں ہٹتے دنیا بھر میں جب یہ خبر عام ہو گئ کہ پیوٹن کی فوج میدان چھوڑ کر بھاگنے لگی ہے اور اس جنگ میں روس کو بہت نقصان ہو رہا ہے اس وقت پیوٹن سامنے آۓ انھوں نے اپنی فوج کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے دوٹوک کہہ دیا کہ اگر یورپی ملکوں کی وجہ سے روس کو نقصان ہوا تو روسی فوج چپ نہیں بیٹھے گی اور ایسے لوگوں کو پوری طاقت سے جواب دیا جاۓ گا ۔

 

پیوٹن کے اس بیان سے چند روز قبل ہی امریکہ کے صدر جو بائڈن روس کو یوکرین پر نیو کلیئر حملہ نہ کرنے  کی دھمکی دے چکے ہیں بائڈن کے بیان کے بعد پیوٹن کا بیان اس لیے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ کیا وہ امریکہ یا کسی اور ملک کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ۔

 

پیوٹن کاا ایسے موقعے پر یہ نیا بیان سامنے آنا اس بات کی بھی علامت ہو سکتا ہے کہ وہ یوکرین سے جنگ جیتنے کیلیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور یہ حد نیو کلیئر ہتھیار کا بٹن دبانے والی بھی ہو سکتی ہے ۔

Share This Article