امریکہ اور روس کے بیان نے برطانیہ کی نیندیں اڑا دیں

23 September,2022

روس یوکرین جنگ کے دوران ایک روز پہلے ہی ولادیمیر پیوٹن نے یورپی ملکوں کو ایٹمی حملے کی دھمکی دی ہے جو اس جنگ میں روس کے خلاف بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں روس نے ایسے  ملکوں کو صاف لفظوں میں یہ باور کرا دیا ہے کہ اگر روس کو ان سے کوئ خطرہ محسوس ہوا تو وہ اپنے لوگوں کی حفاظت کیلیے ایٹمی ہتھیار چلانے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔

 

پیوٹن کی اس دھمکی کے بعد آج امریکہ کے ایک ٹک ٹاکر نے ایک وڈیو جاری کرتے ہوۓ بتایا کہ اگر پیوٹن نے ایٹم بم کا بٹن دبا دیا تو برطانیہ کے پاس اپنے آپ کو بچانے کیلیے صرف چار منٹ کا وقت ہو گا یعنی چند منٹوں میں ہی برطانیہ کا نام و نشان دنیا کے نقشے سے مٹ جاۓ گا اور اگر ایسا ہوا تو دنیا بھر میں تیسری بڑی جنگ چھڑ جاۓ گی ۔

 

پیوٹن کے اس بیان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب روس کی طرف سے یورپی ملکوں کو ایٹمی حملے کی دھمکی دی گئ ہو اس سے پہلے بھی روس برطانیہ کو برباد کرنے کی دھمکی دے چکا ہے اور یہ کہا تھا کہ اگر نیٹو ملکوں کا روس کے ساتھ یہ روکھا انداز برقرار رہا تو لندن کو ایٹمی میزائلوں سے تباہ کر دیا جاۓ گا ۔

 

روس نے برطانیہ کے حوالے سے یہ دعوٰی بھی کیا تھا کہ وہ برطانیہ پر بے حد خطرناک ذرکون میزائل سے حملہ کرے گا جس کی رفتار کے سامنے دنیا کا ہر ایئر ڈیفنس سسٹم نا کام ہو جاتا ہے مطلب یہ کہ اس میزائل کے حملے سے دشمن کیلیے اپنے آپ کو بچانا نا ممکن ہو جاۓ گا ۔

 

روس نے یہ دعوٰی بھی کیا ہے کہ وہ ذر کون میزائل سے امریکہ اور برطانیہ کو ایک جھٹکے میں تباہ کر سکتا ہے روس کے ایک سرکاری چینل نے بھی یہ دعوٰی کیا تھا کہ اگر پیوٹن کی فوج چاہے تو برطانیہ کو سمندر میں ڈبو سکتی ہے اور اس کیلیے روس سمندر کے اندر چلنے والے ڈرونز کا استعمال بھی کر سکتا ہے جو سمندر کے اندر ایٹم بم گرانے کی طاقت رکھتا ہے دعوٰی ہے کہ اگر اس ڈرون سے برطانیہ کے قریب سمندر میں حملہ کیا گیا تو سونامی جیسی سولہ سو فٹ سے بھی اونچی لہریں اٹھیں گی جو پورے برطانیہ کو ڈبو دیں گی ۔

 

لیکن اب ایک بار پھر پیوٹن کی دھمکی سے دنیا بھر میں ایٹمی حملے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے اور اگر پیوٹن نے ایٹمی میزائل چلائ تو برطانیہ کی تباہی بھی لازمی ہے ۔

Share This Article