ایلن مسک نے اچانک یوکرین کا ساتھ چھوڑ کر روس سے ہاتھ ملا لیا

05 October,2022

روس ، یوکرین جنگ  کو شروع ہوۓ تقریباً ساڑھے سات ماہ ہو چکے ہیں اور جنگ کا دورانیہ طویل ہونے کی بنا پر یوکرین کو مدد کرنے والے اس کے ساتھی آہستہ آہستہ زیلینسکی کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں ۔

 

یوکرین جنگ میں یوکرین کی کھل کر مدد کرنے والے ایک ساتھی ایلن مسک کے ساتھ سوشل میڈیا پر زیلینسکی کی ٹکر ہو گئ اور اس ناراضگی کی وجہ مسک کی ایک رپورٹ ہے جو اس نے سوشل میڈیا پر شائع کروائ جس میں یوکرین جنگ کو ختم کرنے کیلیے ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔

 

ایلن مسک کی یہ رپورٹ شائع ہونے پر سوشل میڈیا میں ایک ہنگامہ مچ گیا اور یہ ہنگامہ اس حد تک بڑھ گیا کہ زیلینسکی نے مسک پر کھل کر طنزوتنقید شروع کر دی حالانکہ اس سے پہلے سات ماہ ایلن مسک نے انٹر نیٹ کے ذریعے زیلینسکی کی خوب مدد اور حوصلہ افزائ کی ۔

 

لیکن اب ایلن مسک کے کچھ بیانات سے زیلینسکی کا ماتھا ٹھنکا ہے اور اسے محسوس ہونے لگا ہے کہ مسک اس کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں دراصل مسک نے جنگ بندی کا ایک منصوبہ تیار کیا جس سے زیلینسکی کو لگا کہ وہ ان کا ساتھ چھوڑ کر پیوٹن کے ساتھ مل گۓ ہیں ۔

 

زیلینسکی نے مسک کے خلاف جوابی کاروائ کرتے ہوۓ اعلان کیا کہ اب یوکرین میں ایلن مسک کی کمپنی ٹیسلا کی گاڑی نہیں خریدی جاۓ گی اور مسک کی دوسری کمپنیوں کا بھی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین جنگ میں زیلینسکی جس مسک کے سہارے روس کے سامنے تن کر کھڑے تھے اب وہ یوکرین کا دشمن بن گیا ۔

 

ایلن مسک نے اپنی رپورٹ میں ان چار علاقوں کے متعلق راۓ پیش کی جن میں حال ہی میں ریفرنڈم کرایا گیا اور پیوٹن نے ان چاروں علاقوں کا روس سے الحاق کر دیا تھا لیکن زیلینسکی نے پیوٹن کے اس فیصلے کو رد کرتے ہوۓ یہ مقبوضہ علاقے واپس لینے کیلیے حملے تیز کروا دیے ۔

 

مسک نے راۓ دی کہ ان علاقوں میں دوبارہ ووٹنگ کرائ جاۓ تاکہ حقیقت واضح ہو جاۓ کہ ان علاقوں کے لوگ کس ملک سے الحاق چاہتے ہیں آخر کار یہی جنگ کا انجام ہونا ہے تو یہ فیصلہ ابھی ہو جاۓ تاکہ یوکرینی فوج کی جان بچ جاۓ ۔

 

مسک کی اس راۓ کے بعد صرف زیلینسکی ہی نہیں بلکہ بہت سے لوگ یہ دعوٰی کرنے لگے کہ مسک اور پیوٹن کی یہ ملی بھگت ہے زیلینسکی کے حمایتیوں نے سوشل میڈیا پر مسک کے خلاف الزام تراشیاں اور گالیاں لکھنا شروع  کر دیں لیکن یہ بات طے ہے کہ اگر مسک نے جنگ میں پانسہ پلٹ لیا تو یہ زیلینسکی کیلیے بہت بڑا جھٹکا ہو گا ۔

Share This Article