روس نے کریمیا پل پر دھماکے کے بعد یوکرین میں قیامت برپا کر دی

10 October,2022

روس ، یوکرین جنگ کے دوران کریمیا اور روس کو ملانے والے پل پر یوکرینی فوج کے حملے پر پیوٹن کو شدید غصہ تھا اور اب انھوں نے 24 گھنٹوں کے دوران ہی یوکرین پر میزائل حملے شروع کر دیے اور لگاتار یوکرین کے شہر زیپورزیا پر بارہ میزائلیں گرائ گئیں جس سے ایک نو منزلہ عمارت میں آگ لگ گئ  پورا شہر دھواں دھواں ہو گیا ۔

 

پیوٹن کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا بلکہ روسی فوج نے ایک مرتبہ پھر یوکرین پر نۓ سرے سے حملے کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے اور روس کے سکوئ 35 جنگی طیارے بھی یوکرینی فوج کو دہشت میں ڈالنے کیلیے یوکرین کے  آسمان میں نظر آنے لگے ہیں

 

روس کے یہ جنگی طیارے یوکرینی فوج کے ٹینکوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان جنگی جہازوں سے چن چن کر یوکرینی ٹینکوں کو تباہ کیا جا رہا ہے یوکرینی فوج کیلیے روس کے ان اچانک حملوں کا کوئ جواب دستیاب ہی نہیں ۔

 

زیپورزیا شہر کے ساتھ ساتھ روسی فوج خیر سون میں بھی پوری طاقت سے یوکرینی فوج کو نشانہ بنا رہی ہے روس نے یوکرین کے مختلف شہروں میں پانچ بڑے حملے کیے ہیں کریمیا پل پر یوکرینی دھماکے کا بدلہ لینے کیلیے پیوٹن پورے یوکرین کو دہلا کر رکھ دیں گے ۔

 

اس وقت زیپورزیا جنگ کے شعلوں میں جل رہا ہے زیپورزیا پاور پلانٹ کو بند کر دیا گیا ہے 8 اکتوبر کو کریمیا پل کو ایک دھماکے سے تباہ کر دیا گیا تو یہ پیوٹن کی شان و شوکت پر ایک چوٹ تھی اس لیے اس دھماکے کے چند گھنٹوں بعد ہی روس نے یوکرین کو میزائلوں سے بھر دیا ۔

 

پیوٹن نے بہت پہلے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ اگر کریمیا پل پر حملہ ہوا تو قیامت کا دن آ جاۓ گا اس لیے اب ایٹمی حملے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے  پیوٹن نے کہہ دیا ہے کہ اب ایسی جنگ ہو گی جس میں کوئ قواعدوضوابط نہیں ہوں گے ۔

 

روس کیلیے اس وقت یہ سوال اہم ہے کہ کریمیا پل کی حفاظت کیلیے سمندر میں روسی جہاز ہر وقت موجود ہوتے ہیں اور اس پل کو ہوائ حملوں سے بچانے کیلیے ایئر ڈیفنس سسٹم تعینات ہیں پل کے دونوں اطراف چیک پوسٹ بھی ہیں ہیں ان حفاظتی اقدامات کے باوجود پل پر حملہ کیسے ہوا کس نیٹ ورک اور کس طریقے نے یہ حملہ کروایا ؟ روس کیلیے اس وقت یہ اہم نہیں کہ حملہ کس نے کیا بلکہ اہم بات یہ ہے کہ یہ ممکن کیسے ہوا ؟ روس کی تمام ایجنسیاں اب اسی معاملے کی کھوج میں جتی ہوئ ہیں ۔

Share This Article