ایلن مسک نے اب تک یوکرین کی جو مدد کی ہے اس کی 80 ملین ڈالر قیمت کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے

17 October,2022

روس ، یوکرین جنگ نے سات ماہ بعد ایک بار  پھر  جیسے  ہی پانسہ پلٹا ہے یوکرین کے  ساتھیوں نے بھی اس کی مدد سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے 24 فروری کو جب روس کی فوج نے یوکرین پر اپنا خاص آپریشن شروع کیا تھا اسی وقت ہی  یوکرین میں انٹر نیٹ کی تمام کمپنیوں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا تھا ایسے وقت میں ایلن مسک یوکرین  کیلیے مسیحا بن کر آۓ ۔

 

ایلن مسک نے اس وقت یوکرین کیلیے انٹر نیٹ کی  سہولت  بحال کی اتنا  ہی نہیں بلکہ ایلن مسک کی کمپنی  نے روسی فوج کے ٹھکانوں پر حملے  کیلیے  سیٹلائٹ کے ذریعے یوکرینی فوج کی مدد بھی کی لیکن اب  ایلن مسک نے یوکرین کی مدد نہ  کرنے  کا اعلان کر دیا ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ مسک نے پچھلے تمام حساب  برابر کرنے  کیلیے  اب تک یوکرین کی جو مدد کی ہے اس کے تمام اخراجات کی فہرست  بھی پینٹاگون کو بھجوادی ہے کہ اس رقم کی ادائیگی بھی کی جاۓ ۔

 

جنگ کے  پچھلےچند ماہ سے یوکرینی فوج جن سیٹلائٹس کی مدد سے روسی  فوج کے  خفیہ ٹھکانوں کا پتہ لگا رہی تھی اور روسی فوج کے ٹھکانوں پر حملے کر رہی تھی یہ سب ایلن مسک کی کمپنی سپیس ایکس کے ہی مرہونِ منت تھا ۔

 

اس جنگ کے دوران یوکرین کا دنیا سے رابطہ  بحال کرنےے والی کمپنی ایلن  مسک کی ہی انٹر نیٹ کمپنی سٹار لنک تھی لیکن اب یہ سب کچھ ممکن نہیں ہے کیونکہ اب دنیا کے سب سے امیر شخص ایلن مسک نے یوکرین کے سر سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا ہے ۔

 

اب یہ دعوٰی بھی کیا جا رہا ہے  کہ ایلن مسک کی سٹار لنک کمپنی مزید اپنے کسی بھی سیٹلائٹ کو یوکرین کی مدد کیلیے  اسستعمال نہیں کرواۓ گی کیونکہ مسک نے یہ واضح کہہ دیا ہے کہ وہ اب مفت میں یوکرین کی مدد نہیں کریں گے اگر یوکرین کو کوئ معلومات سیٹلائٹ کے ذریعے درکار ہیں یا انٹر نیٹ کی سہولت درکار ہے تو اسے اس کی قیمت چکانی ہو گی ۔

 

ایلن مسک نے جنگ کے شروع سے لے کر اب تک  یوکرین کی جو مدد کی ہے رپورٹ کے مطابق اس کی قیمت تقریباً 80  ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور اگر اسی طرح یوکرین کی مدد جاری رہی تو یہ لاگت سال کے آخر تک 100 ملین ڈالر تک پہنچ جاۓ  گی ۔

 

ایلن مسک کے اس شدید ردعمل کی وجہ زیلیسکی کا رویہ ہے جس کا اظہار حالیہ ٹوئیٹر کے ایک سروے کے بعد زیلینسکی نے کیا ہے یہ سروے رپورٹ خود ایلن مسک نے پیش کی تھی جس میں جنگ بندی کیلیے چند تجاویز اور راۓ کا اظہار کیا گیا جس پر زیلینسکی بھڑک اٹھے اور انھوں نے اور دوسرے ان کے ساتھیوں نے بڑھ چڑھ کر اس کی مذمت کی جس پر ایلن مسک کا غصہ بھی بجا ہے ۔

Share This Article