نیٹو نے یوکرین کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیے

روس کے صدر پیوٹن نے کچھ روز قبل سرمت میزائل کا ٹیسٹ کیا تھا اور یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ان کا یہ ہتھیار چل گیا تو فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک کا نام و نشان تک مٹ جاۓ گا پیوٹن کے اس خطرناک ہتھیار کے استعمال اور اس بیان سے نیٹو خوفزدہ ہو گیا ۔

 

نتیجتاََ نیٹو نے روس ، یوکرین جنگ میں یوکرین کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیے یہ اعلان ترکی میڈیا کی طرف سے کیا گیا  کہ روس ، یوکرین جنگ میں اب نیٹو یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی نہیں کریں گے ۔

 

ترکی میڈیا نے یہ دعو'ی بھی کیا ہے کہ پیوٹن کی اس دھمکی کے بعد نیٹو ممالک میں ایک سمجھوتہ ہوا جس میں یہ طے کیا گیا کہ روس سے جنگ لڑنے کیلیے یوکرین کو ہتھیار تو دیے جائیں گے لیکن ایسے ہتھیار نہیں دیے جائیں گے جو روس اور نیٹو جنگ کا سبب بن جائیں ۔

 

نیٹو ممالک میں یہ سمجھوتہ ہوا کہ نیٹو یوکرین کو لمبی دوری تک مار کرنے والے ٹینک اور لڑاکو طیارے نہیں دے گا حالانکہ نیٹو ممالک سے ملے ہتھیاروں کے بل بوتے پر ہی یوکرینی فوج پچھلے 93 دنوں سے دنیا کی دوسری سب سے طاقتور فوج کے سامنے کھڑی ہے ۔

 

نیٹو ہتھیاروں کی وجہ سے ہی یوکرین نے کئ علاقوں میں روسی فوج کو نقصان بھی پہنچایا ہے اور کئ علاقوں سے روس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے دراصل جنگ کے پہلے دن سے ہی نیٹو یوکرین کو ایک سے بڑھ کر ایک خطرناک ہتھیار دے رہے ہیں ۔

 

روس ، یوکرین جنگ میں امریکہ نے یوکرین کو جیولن اور سٹنگر میزائل دیےہیں جنہیں آسانی سے کندھے پر رکھ کر چلایا جا سکتا ہے اس لیے یہ دونوں ہتھیار جنگ کے میدان میں روس کے ٹینکوں کیلیے خطرناک ثابت ہوۓ لیکن اب نیٹو یوکرین کو ایسے ہتھیار دینے میں جھجھک رہے ہیں کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ اگر لڑاکو طیارے اور دوسرے ہتھیار یوکرین کو دے دیے تو روس ان پر حملہ کر دے گا اور اگر ایسا ہوا تو روس اور نیٹو میں جنگ شروع ہو جاۓ گی اور نیٹو ممالک ایسا نہیں چاہتے ۔

 

نیٹو ملکوں نے اپنا فائدہ سوچتے ہوۓ یوکرین کو بیچ منجدھار اکیلا چھوڑ دیا ہے جس پر زیلینسکی بھڑک اٹھا اور اس نے کہا ہے کہ اس جنگ میں نیٹو صرف تماشائ بنا دیکھ رہا ہے اس جنگ کو روکنے کیلیے کچھ نہیں کر رہا ۔

 

مزید پڑھیں: امریکہ میں آۓ روز بڑھتے ہوۓ جرائم کے واقعات
 

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+