جنگ میں من چاہے فیصلے کرنے کی وجہ سے امریکہ اور یورپی ملک زیلینسکی کو برطرف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

24 November,2022

روس ، یوکرین جنگ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوۓ امریکہ اور یورپی ملک زیلینسکی کو جنگ میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ان کا یہ دعوٰی ہے کہ زیلینسکی اس جنگ میں من چاہے فیصلے کر رہے ہیں اور ان کی باتوں کو ان سنا کر دیتے ہیں ۔ 

 

   جنگ میں زیلینسکی کے کئ فیصلے بائیڈن کو پسند نہیں تھے لیکن اس کے باوجود زیلینسکی نے ان پر عمل کروایا اور زیلینسکی کے انہی اقدام سے بائیڈن شدید غصے میں آ گۓ اور اب ہو سکتا ہے کہ بائیڈن کی ناراضگی زیلینسکی کی کرسی ہی نہ لے ڈوبے ۔

 

اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ جنگ کے حوالے سے پیش کی گئ یورپ اور امریکہ کی تجاویز کو زیلینسکی نے سرے سے خارج کر دیا یورپی ملکوں کا کہنا تھا کہ شدید سردی کے باعث اگر روس اور یوکرین چھ ماہ تک عارضی صلح کر لیں تو دونوں ملکوں کی فوجوں کو اتنی طویل جنگ کے بعد راحت مل جاۓ گی اور یوکرین کے لوگ بھی کچھ عرصہ روس کی توپوں اور گولوں سے چھٹکارہ پا لیں گے ۔

 

   لیکن زیلینسکی نے نہ صرف یورپی ملکوں کی یہ تجویز ٹھکرا دی بلکہ اس کو روس کی سازش قرار دیا جس پر مسٹر پیوٹن بھڑک گۓ اور انھوں نے زیلینسکی کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کر دیا ۔

 

   زیلینسکی کی اس من مانی پر اب بائیڈن بھی یہ سمجھ چکے ہیں کہ اصل میں زیلینسکی جنگ کو ختم کرنے کی بجاۓ جنگ کو مزید بھڑکانا چاہتے ہیں اسی لیے وہ پیوٹن کو طیش دلانے والے قدم اٹھا رہے ہیں ایسے میں جنگ کو روکنے کیلیے سب سے پہلے زیلینسکی کو اقتدار کی کرسی  سے ہٹانا ہو گا ۔

 

   زیلینسکی کی یہ کوشش بھی ہے کہ میدان جنگ میں کسی طرح امریکہ بھی اتر آۓ کیونکہ اگر امریکہ جنگ میں شامل ہوا تو یورپی ملک بھی شامل ہو جائیں گے اور اس طرح روس کو ہرانے کا زیلینسکی کا خواب پورا ہو جاۓ گا اور اس کا ایک ثبوت حال ہی میں پولینڈ پر کیا جانے والا یوکرین کا میزائل حملہ ہے جس کا الزام زیلینسکی نے روس پر لگا دیا تھا تاکہ امریکہ سمیت نیٹو کے سبھی ملک جنگ کی آگ میں کود پڑیں ۔

 

   زیلینسکی کے ان اقدام کا الٹا اثر ہوا اور بائیڈن اور یورپی ملک زیلینسکی کے خلاف ہو گۓ اگر وہ زیلینسکی کو برطرف کرنے میں کامیاب ہو گۓ تو اس طرح نو ماہ سے جاری جنگ میں بھی بدلاؤ آ جاۓ گا کیونکہ پیوٹن بھی زیلینسکی کے بیانوں اور چالوں سے بھڑکے ہوۓ ہیں اس کے جانے کے بعد پیوٹن بھی اپنے رویے میں نرمی پیدا کر سکتے ہیں اور جنگ رک بھی سکتی ہے ۔

 

   دوسری طرف امریکہ کے جنگی ہتھیار اور سرمایہ بھی جنگ کی بھینٹ چڑھنے سے بچ سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ روس کے رویے میں نرمی آنے سے روس  یورپی ملکوں کو گیس کی سپلائ بھی بحال کر دے ۔

 

 

Share This Article