جاپان دو اطراف سے طاقتور دشمنوں میں گھر چکا ہے

روس یوکرین جنگ نے دنیا کے کئ اور ملکوں میں  جنگ کی چنگاری کو سلگا دیا ہے اور کئ ملک اپنے جنگی ہتھیار آزمانے  کا ارادہ کرنے لگے ہیں ان ملکوں کی فہرست میں چین اور شمالی کوریا بھی شامل ہیں ان کی دوسری طرف جاپان ہے جس کی امریکہ سے بڑھتی نزدیکیوں نے چین کو بھڑکا دیا ہے اور چین اب بار بار تائوان کے ساتھ ساتھ جاپان کے قریب بھی اپنے ہتھیاروں کے ٹیسٹ کر رہا ہے سال 2022ء میں بارہ دفعہ چین کے جنگی جہاز جاپان کے علاقے میں داخل ہوۓ چینی جنگی طیاروں کی یہ دخل اندازی جاپان کواپنی طاقت دکھانے اور جنگی تیاری دکھانے کیلیے کی گئ ۔

 

چند روز قبل ایئر  ڈیفنس آف جاپان  نے اس خطرے کا اظہار بھی کیا ہے کہ شمالی کوریا کبھی بھی بلیسٹک میزائل سے جاپان پر حملہ کر سکتا ہے 25 جولائ کو شمالی کوریا کا ایک جاسوس طیارہ جاپان کی سرحد کے قریب سے گزرا جس پر جاپانی ایئر ڈیفنس سسٹم کو الرٹ کر دیا گیا اور شمالی کوریا کے اس ایکشن کے بعد جاپان نے بھی اپنی تیاریاں تیز کر دیں ۔

 

جاپان ایک طرف چین کی تیکھی نظروں کا سامنا کر رہا ہے تو دوسری طرف شمالی کوریا بھی جاپان کیلیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے کم جانگ کی بارودی طاقت سے جاپان کا سمندر کانپ رہا ہے کیونکہ شمالی کوریا نے جن ہتھیاروں کا ٹیسٹ کیا ہے وہ ٹوکیو کیلیے خطرے کی گھنٹی ہیں جاپان جانتا ہے کہ کم جانگ جو ہتھیاروں کا بھنڈار اکٹھا کر رہا ہے وہ اس کے خلاف کسی بھی وقت استعمال کر سکتا ہے ۔

 

جاپان اب دو مورچوں پر جنگ کی تیاری کر رہا ہے چین سے مقابلہ کرنے کیلیے جاپان کے پاس امریکہ اور کواڈ کی پوری مدد ہے لیکن جاپان کیلیے سب سے بڑا مسئلہ شمالی کوریا ہے جاپان اور شمالی کوریا کی عداوت کی کہانی بہت طویل ہے 2001 ء میں شمالی کوریا کا ایک بحری بیڑا جاپان کے سمندر میں جا پہنچا تھا جاپان کی سمندری فوج نے شمالی کوریا کے اس جہاز پر گولہ باری کی اور شمالی کوریا کا جہاز ڈوب گیا جاپان اور شمالی کوریا کے درمیان مچھلیوں کی وجہ سے بھی ان بن رہتی ہے ۔

 

جاپان اور چین کے درمیان بھی عداوت بہت قدیم ہے اور دونوں ملکوں میں مشرقی چینی سمندر کی وجہ سے کشیدگی اور تناؤ بڑھتا رہا ہے اب جاپان سے امریکہ کی دوستی ، جنوبی چینی سمندر پر بھی جاپان تائوان ، امریکہ اور ملائیشیا کے ساتھ ہے یہی وجہ ہے کہ چین اور جاپان کے درمیان بھی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے ۔

 

مزید پڑھیں: روس یوکرین کے ٪20 علاقے کو روس میں شامل کر رہا ہے
 

user
وسیم حسن

تبصرے

بطور مہمان تبصرہ کریں:
+