عالمی اداروں کی معاشی اور اقتصادی صورتحال پر خصوصی کانفرنس

19 April,2022

عالمی اداروں کی جانب سے بین الا قوامی معیشت کو بحال کرنے کے لیے اقدامات

عالمی اداروں کی طرف سے کیے گئے اقدامات

 

13 اپریل 2022 کو ہونے والی جنیوا کانفرنس میں عالمی بینک ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف )،اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی)اور ڈبلیو ٹی او کے سربراہان نے ایک مشترکہ کانفرنس میں  غذائی بحران کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے اورچھوٹے ممالک  کی مدد کےلیےعالمی برادری سے منسلک اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ان اقدامات میں خوراک کی ہنگامی فراہمی ، تمام ممالک کے خاندانوں کو مالی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا شامل ہے ۔اس کے علاوہ بغیر کسی روک ٹوک سے تجارتی سہولیات کی فراہمی،خوراک کی پائیدار پیداوار اور غذائی تحفظ  میں سرما یہ کاری شامل ہے ۔

 

عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس،آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائیریکٹرکرسٹا لینا جارجیو،ڈبلیو ایف پی کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹرڈیوڈ بیسلی اور ڈبلیوٹی او کے ڈایئریکٹر جنرل نگوزی او کونجو اس مشترکہ کانفرنس میں شامل تھے۔ورلڈ بینک گروپ کے موسمِ بہار سے قبل اجلاس میں  بیان جاری کیا گیا کہ دنیا معاشی بحرانوں سے ہل کر رہ گئی ہے۔ خاص کر جب سے روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو کئی یورپی  ممالک اپنی اس معاشی بحالی کو ترس کر رہ گئے جبکہ وہ اس سے پہلےایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔یوکرین اور روس کی اس جنگ سے دنیا بھر میں منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

 

کورونا کے بعد عوام الناس کو درپیش مسائل

 

کووڈ 19 کی لہر ان حالات میں ایک مرتبہ پھر زور پکڑ رہی ہے اور اب یہ اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے ۔اس کے برعکس ماحولیاتی تبدیلیاں،معاشی اور اقتصادی تنزلی بھی دنیا بھر کے لوگوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔اہم غذائی اجناس اور ان کی سپلائی سے کروڑوں خاندان متاثر ہو رہے ہیں جس کہ وجہ سے دنیا غربت کی ایک نئی لہر سے دوچار ہے۔یہ خطرہ چھوٹے اور ترقی پزیر ممالک کے لیے زیادہ تشویشناک ہے جن کی کھپت کا ایک بڑا حصہ خوراک کی درآمدات سے پورا ہوتا ہےمگر اس ک ساتھ ساتھ متوسط معیشت والے ممالک کے لیے بھی یہ ایک خطرے کی علامت ہے جن کی بڑی اکثریت دنیاوی نقشے پر موجود ہے۔کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کےساتھ ساتھ عالمی سپلائی میں نمایاں کٹوتیوں کے بعد زیادہ تر مملاک بشمول پروڈیوسر اور برآمد  کنندگان میں خوراک  کی پیاوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور  تجارت کی کمی سے متاثرہ مما لک میں معاشی کشیدگی کا اضافہ ہو سکتا ہےخاص طور پر وہ ممالک جو پہلے سے ہی معاشی تنگ دستی کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

دوطرفہ تعلقات پر زور

 

کانفرنس میں موجود تمام ممبران نے عالمی برادری سے درخواست کی ہے کہ  خوراک کی ہنگامی فراہمی کے ساتھ مالی امداد،زرعی پیداوار میں اضافہ اور تجارت کی سہولیات کے اقدامات کے ذریعے فوری طور پر کمزور ممالک کی امداد کی جائے۔ان کا مزیدکہنا تھا کہ عالمی برداری اپنی مالی امداد کی پالیسیوںمیں تیز رفتار تبدیلیاں کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرےممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی فروغ دیں تاکہ عالمی سطح پر تجارت کو آسان بنایا جائے۔

 

بقیہ بیان میں تمام نمائندگان نے عالمی برادری سے مالی امداد کے ساتھ ساتھ گرانٹس کا مطالبہ بھی کیا ہےجس کی بدولت تمام ممالک میں خوراک کابحران،کسانوں کوبڑھتی قیمتوں سے پیش مسائل کے حل اور غریبوں کی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے تجارت یا زراعت کی پیداوار کے سازو سامان پر عائد پابندیوں کو بحال کرنے کی تجویز دی۔اقوام متحدہ کے ورلڈ فوٖڈ پروگرام نے انسانوں کے لیے خوراک کی خریداری پر برآمدی پابندیاں ناعائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس بدولت غذائی عدم تحفظ سے متاثر ممالک کو ایک باقائدہ انداز میں اایک دوسرے سے منسلک ہونے پر زوردیتے ہوئے کہا کہ ہم دوطرف تعلقات کے خواہاں ہیں اور تمام غریب ممالک کو اس معاشی بحران سے نکالنا چاہتے ہیں۔

 

عالمی بینک کی جانب سے عالمی سطح پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں ہر ایک فیصد کے اضافے سے دنیا بھر میں ایک کروڑ افرادانتہائی غربت کا شکار ہو جاتے ہیں۔نائٹروجنی کھادوں کے ایک اہم جزو قدرتی گیس کی قیمت میں اچانک ڈرامائی اضافے سے خوراک کی اشیاء  میں قیمت کا اضافہ ہوا ہے۔

 

روس اور یوکرین کی جنگ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی

 

روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد  امریکہ کی معیشت کو دھچکا لگا ہے۔امریکہ میں جنم لینے والے سنگین مسائل میں سے ایک خوراک کی کمی ہے،جس کے بعد امریکہ کی غریب سے لے کر بزنس کمیونٹی اثرانداز ہو رہی ہے۔امریکہ کی معیشت کا ایک بڑ حصہ اس کی برآمدات پر مشتمل ہے ،جس میں سے ایک بڑی  مقدار روس سے حاصل کر تا ہے۔روس پر کی گئی مرتب پابندیوں کے باعث امریکہ کی قوم مہنگائی کی ایک نئی اور خطرناک لہر کا سامنہ کر رہی ہے۔روی بزنس کمیونٹی اور روسی بینکس کے اثاثے  غیر قانونی ٹھہرانے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تجارت بہت مشکل ہو چکی ہے۔امریکہ کی قوم لیبر اور فوڈ  شارٹیج کا بدترین سامنا کر رہی ہے ۔

 

Share This Article